خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 640
640 $2004 خطبات مسرور یوسف صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلام کا اس قدر خیال تھا کہ حضوڑ اگر چہ چند ھوں کے لئے بھی جماعت سے اٹھ کر جاتے اور پھر واپس تشریف لاتے تو ہر بار جاتے بھی اور آتے بھی السلام علیکم کہتے۔(سیرت المهدی حصه۔سوم صفحه 32) حافظ محمد ابراہیم صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں۔اکثر حضور علیہ السلام، السلام علیکم پہلے کہا کرتے تھے۔(سیرت المہدی حصه سوم صفحه 114)' تو یہ سب کچھ اس محبت کی وجہ سے تھا جو آپ کے دل میں اپنے مانے والوں کے لئے تھی بلکہ کوئی بھی بیٹھا ہو تو آپ اس طریقے سے سلام کیا کرتے تھے۔گویا اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے اور اسی جذبے کے تحت آپ سلام کو پھیلایا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” اس زمانے میں اسلام کے اکثر امراء کا حال سب سے بدتر ہے۔وہ گویا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق و فجور کے لئے پیدا کئے گئے ہیں دین سے وہ بالکل بے خبر اور تقویٰ سے خالی اور تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں۔اگر ایک غریب ان کو السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔بلکہ غریب کے منہ سے اس کلمہ کو ایک گستاخی کا کلمہ اور بیبا کی کی حرکت خیال کرتے ہیں۔حالانکہ پہلے زمانے کے اسلام کے بڑے بڑے بادشاہ السلام علیکم میں اپنی کوئی کسر شان نہیں سمجھتے تھے۔یعنی اپنی شان میں کوئی کمی نہیں سمجھتے تھے مگر یہ لوگ تو بادشاہ بھی نہیں ہیں پھر بھی بے جا تکبر نے ان کی نظر میں ایسا پیارا کلمہ جو السلام علیکم ہے، جو سلامت رہنے کے لئے ایک دعا ہے، حقیر کر کے دکھایا ہے۔پس دیکھنا چاہئے کہ زمانہ کس قدر بدل گیا ہے کہ ہر شعار اسلام کا تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 327 ) پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس شعار اسلام کو اتنا رواج دیں کہ یہ احمدی کی پہچان بن جائے۔اس کے لئے خود بھی کوشش کریں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی کہیں ان دنوں میں، جلسہ کے