خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 628
خطبات مسرور 628 $2004 پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر والوں کے ہاں جاؤ تو سلام کہا کرو۔یہ تمہارے اور تمہارے اہل خانہ کے لئے خیر و برکت کا موجب ہوگا۔یہاں یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ اپنے گھر میں بھی داخل ہو تو سلام کہا کرو کیونکہ سلامتی کا پیغام تو ہر وقت بکھیر تے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جب تم جنت میں جاؤ گے تو وہاں کیونکہ صحیح معنوں میں اس سلامتی کے کلمہ کا ادراک ہوگا، صحیح معنے پتہ ہوں گے اس لئے اللہ کی پاکیزگی بیان کرنے کے بعد دوسری اہم بات جو تم کرو گے وہ ایک دوسرے پر سلامتی بھیجنا ہی ہوگا۔اس لئے یہاں بھی اگر جنت نظیر معاشرہ قائم کرنا ہے تو ایک دوسرے پر سلام بھیجو۔تو سلام کی عادت ڈالنے کے لئے جیسا کہ اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں بھی اپنے بچوں کو سلام کہنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔یہ تو ٹرینگ کا ایک مستقل حصہ ہے، بچے کو سمجھاتے رہیں کہ وہ سلام کرنے کی عادت ڈالے، گھر سے جب بھی باہر جائے سلام کر کے جائے اور گھر میں جب داخل ہو تو سلام کر کے داخل ہو۔پھر بچوں کو اس کا مطلب بھی سمجھائیں کہ کیوں سلام کیا جاتا ہے تو بہر حال بچوں، بڑوں سب کو سلام کہنے کی عادت ہونی چاہئے۔بعض دفعہ بے تکلف دوستوں اور بے تکلف عزیزوں کے گھروں میں لوگ بے دھڑک چلے جاتے ہیں۔یہاں یورپ میں تو اکثر گھروں میں باہر کے دروازوں کو کیونکہ تالا لگا ہوتا ہے یا اس طرح کالاک (Lock) ہوتا ہے جو خود بخود بند ہو جاتا ہے یابا ہر سے کھل نہیں سکتا اس لئے اس طرح جانہیں سکتے اور جن گھروں میں اس طرح کا نظام نہیں ہے یا اگر یہ نہ ہواور گھر کھلے ہوں تو شاید ان گھروں میں گھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے لیکن پاکستان ہندوستان وغیرہ میں بلکہ تمام تیسری دنیا جو کہلاتی ہے ان ملکوں میں یہی طریق ہے اور جب رو کو کہ اس طرح نہیں ہونا چاہئے تو پھر برا مناتے ہیں۔یہ حکم عورتوں کے لئے بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ مردوں کے لئے ہے۔عورتوں میں بھی