خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 595
$2004 595 خطبات مسرور نہیں ہوتا۔پھر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اگر کسی کے پاس جواب ہو تو اس جماعتی نظام کے تحت جواب بھیج دیں خود ہی نظام اس کو دیکھ لے گا کہ آیا جو جواب آپ نے بھیجا ہے درست ہے یا اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا ہے۔تو بہر حال مقصد یہ ہے کہ جماعت کے کسی بھی فرد کا وقت بلا مقصد ضائع نہیں ہونا چاہئے اس لئے جس حد تک ان لغویات سے بچا جاسکتا ہے، بچنا چاہئے اور جو اس ایجاد کا بہتر مقصد ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔علم میں اضافے کے لئے انٹرنیٹ کی ایجاد کو استعمال کریں۔یہ نہیں ہے کہ یا اعتراض والی ویب سائٹس تلاش کرتے رہیں یا انٹرنیٹ پر بیٹھ کے مستقل باتیں کرتے رہیں۔آجکل چیٹنگ (Chatting) جسے کہتے ہیں۔بعض دفعہ یہ چیٹنگ مجلسوں کی شکل اختیار کر جاتی ہے اس میں بھی پھر لوگوں پہ الزام تراشیاں بھی ہو رہی ہوتی ہیں ، لوگوں کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہوتا ہے تو یہ بھی ایک وسیع پیمانے پر مجلس کی ایک شکل بن چکی ہے اس لئے اس سے بھی بچنا چاہئے۔پھر غلط صحبتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ بھی لغویات میں شمار ہوتی ہیں ان سے بھی بچو۔اگر براه راست ان مجلسوں اور ان صحبتوں میں نہیں بھی شامل ہو تو پھر بھی ایسی مجلسوں میں ایسے لوگوں کی صحبتوں میں بیٹھنا جہاں غیر تعمیری گفتگو یا کام ہو رہے ہوں تمہیں بھی متاثر کر سکتا ہے۔پھر بعض تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔کسی شخص کا تمہارے پر بڑا اچھا اثر ہے اس کی ہر بات کو بڑی اہمیت دیتے ہو لیکن اگر وہ نظام جماعت کے خلاف بات کرتا ہے یا امیر کے خلاف بات کرتا ہے یا کسی عہدیدار کے خلاف بات کرتا ہے تو اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس پر یقین کر لیتے ہو حالانکہ اس وقت اپنی عقل سے کام لینا چاہئے۔یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ بھی وہ کہہ رہا ہے وہ سچ اور حق بات ہی کہہ رہا ہے۔بلکہ انصاف اور عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ نظام تک بات پہنچاؤ۔یہ بات اس بات کرنے والے کو بھی کہو کہ اگر یہ بات ہے جس طرح تم کہہ رہے ہو تو امیر تک بات پہنچا و یا بالا انتظام