خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 458
$2004 458 خطبات مسرور فرق نہیں کیا جا سکتا۔اور کنیزوں اور بہائم (یعنی جانوروں) سے بھی بدتر ان سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں۔یہاں کے پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی اور دوسری پہن لی۔یہ بڑی خطر ناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں میں کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی دیکھو کہ آپ عورتوں سے کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ٣٩٦ـ الحكم ۱۰ اپریل ۱۹۰۳ء) بعض دفعہ گھروں میں چھوٹی موٹی چپقلشیں ہوتی ہیں ان میں عورتیں بحیثیت ساس کیونکہ ان کی طبیعت ایسی ہوتی ہے وہ کہہ دیتی ہیں کہ بہو کو گھر سے نکالو لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب سسر بھی ، مرد بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہوئی ہے اپنی بیویوں کی باتوں میں آ کر یا خود ہی بہوؤں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں حتی کہ بلاوجہ بہوؤں پہ ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔پھر بیٹوں کو بھی کہتے ہیں کہ مارو اور اگر مرگئی تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور بیوی لے آئیں گے۔اللہ عقل دے ایسے مردوں کو۔ان کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ یا درکھنے چاہئیں کہ ایسے مرد بزدل اور نا مرد ہیں۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” چاہئے کہ بیویوں سے خاوندوں کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر انہیں سے ان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خی 66 خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ تم میں سے اچھا ہے وہ جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ۳۰۱،۳۰۰ البدر ۲۲ مئی ۱۹۰۳ و الحكم ١٧ مئى ١٩٠٣ء)