خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 403

$2004 403 مسرور چنانچہ دیکھ لیں آج کل اخبار ان باتوں سے بھرے پڑے ہیں۔بہت سے کالم نویس لکھتے ہیں ہماری مساجد بھی موجود ہیں۔آذان کی آواز سن کر ان مساجد کی طرف جانے والے بھی لائنوں میں گروہ در گروہ جارہے ہوتے ہیں، آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں، حج پر بھی جاتے ہیں،صدقہ خیرات بھی بہت لوگ کرتے ہیں۔لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری ان تمام نیکیوں کا نتیجہ ہمیں نظر نہیں آتا۔اور امت مسلمہ ہر طرف سے خطرات میں گھرتی چلی جارہی ہے۔تو ان کو پتہ تو ہے کہ کیا وجہ ہے۔لیکن جو شخص دنیا کی اس زمانے میں اصلاح کا دعوی لے کر اٹھا ہے جو رسول اللہ ﷺ کا عاشق صادق ہے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ظاہری طور پر تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ادائیگی ہو رہی ہے لیکن اندرونی طور پر ہر رکن اسلام پر عمل کر کے دنیا دکھاوے کی خاطر اس کا اظہار ہورہا ہوتا ہے۔اپنے دنیاوی فائدے اس سے حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔عبادات ہیں تو وہ اظہار کے طور پہ ہیں۔حج ہے تو وہ اظہار کے طور پر ہے۔صدقہ و خیرات ہے تو وہ اظہار کے طور پر ہورہا ہے۔غرض کہ ہر بات میں دنیا کی ملونی نظر آتی ہے۔تو جب دنیا کی ملونی ہوگئی اور زمانے کے امام کی مخالفت بھی انتہاء کو ہوگئی بلکہ اس کے ماننے والوں کو نقصان پہنچانا ثواب کا کام سمجھنے لگ گئے تو پھر اللہ تعالیٰ کا تو یہی سلوک ہے ایسے لوگوں سے اور یہی ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل اور سمجھ دے جو اپنے ایسے علماء کے پیچھے چل پڑے ہیں جن کا کوئی عمل نہیں۔ان کے دماغوں میں بھی یہ ہدایت کی بات آئے کہ اب اگر کچھ حاصل کرنا ہے اور اپنی اس گرتی ہوئی عظمت کو بحال کرنا ہے تو یہ سب کچھ صحبت صادقین سے ہی ہوگا اور اس زمانے کے امام اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہونے سے ہی ہوگا۔ورنہ تو پھر یہ لڑائی جھگڑے، مار دھاڑ اور یہ سب ذلت و رسوائی جو ہے یہ سب ان کا مقدر ہے۔اور پھر آخر کو یہی کہو گے کہ کاش ہم شیطان کے بہکاوے میں نہ آتے۔پس ہم احمدیوں کا بھی حقیقی معنوں میں یہ فرض بنتا ہے کہ حقیقی معنوں میں صدق پر قائم ہوں اور یہ بات ہمیں بھی اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم امت مسلمہ کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور سمجھ دے۔