خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 283

خطبات مسرور 283 ساتھ اخراجات کرنے سے ہی مالی لحاظ سے اپنی ضروریات کو نصف پورا کر لیتے ہو۔$2004 پھر فرمایا، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی روایت ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاح پا گیا جس نے اس حالت میں فرمانبرداری اختیار کی جبکہ اس کا رزق صرف اس قدر ہو کہ جس میں بمشکل گزارا ہوتا ہواور اللہ تعالیٰ نے اسے قناعت بخشی ہو۔(ترمذی کتاب الزھد) تو دیکھیں قناعت کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔اس لئے کم پیسے والوں کے لئے بھی ایسی کوئی شرمندگی کی بات نہیں اگر شکر گزاری ہے تو فلاح بھی آپ کا مقدر ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی بھی ہو ( جولوگ قناعت نہیں کرتے اور حرص میں رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ ہے )۔ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی بھی ہو تب بھی وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی بھی آجائے۔اس کے منہ کو سوائے مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔اور اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الزهد باب ما جاء لو كان لابن آدم و اديان۔۔۔۔۔۔۔تو قناعت نہ کرنے والوں کا یہ نقشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھینچا ہے۔حریص آدمی تو یہی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کے پاس آجائے اور تب بھی اس کی حرص پوری نہیں ہوتی۔اور جب تک وہ زندہ رہتا ہے یہی حرص اسے اس دنیا میں بھی جہنم میں مبتلا کئے رکھتی ہے۔کیونکہ اتنی زیادہ حرص بہر حال تکلیف میں مبتلا رکھتی ہے۔تو مومن کو ان چیزوں سے بچنا چاہئے اور اگر کبھی ایسی سوچ بن جاتی ہے تو اپنے آپ کو پاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور توجہ کرتے ہوئے جھکنا چاہئے۔اگر انسان اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے جھکے، توبہ استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔اب بعض لوگ اچھے بھلے اپنے کاروبار ہونے کے باوجود دوسروں کے پیسوں پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔اور کئی کم تجربہ کار اپنی بے عقلی سے زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ میں ایسے لوگوں کی