خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 163
$2004 163 خطبات مسرور تضرع پر معاف کرنا سنت اسلام ہے تا تخلق باخلاق ہو جائے۔مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں ترک وعدہ پر باز پرس ہوگی مگر ترک وعید پر نہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۲۶، ۲۷) اب ایک اور بہت بڑا عہد ہے جو احمدیت میں شامل ہو کر ہم نے کیا ہے اور وہ یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کریں گے اور یہ عہد کسی عام آدمی سے نہیں کر رہے بلکہ نبی کے ساتھ یہ عہد کیا ہے۔اور نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک عہد باندھ رہے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُوْنَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَ يَدُ اللَّهَ فَوْقَ أَيْدِيْهِمْ فَمَنْ نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُتُ عَلى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيْهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔(سورة الفتح آیت ١١) یقیناً وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھ پر ہے پس جو کوئی عہد توڑے تو وہ اپنے ہی مفاد کے خلاف عہد توڑتا ہے اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے باندھا تو یقیناً وہ اسے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔اب اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت میں بھی شامل ہورہے ہیں۔کیونکہ آپ کے حکم کے مطابق ہی ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا۔تو کچھ نے تجدید بیعت کی ہے اور کچھ نئے شامل ہور ہے ہیں تو اس کے بعد بدعہدی کرنا تو اپنے آپ کو خسارے میں ڈالنے والی بات ہے۔اور اگر اس عہد پر قائم رہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر میں اتنا بڑا اجر عطا کروں گا کہ جس کا تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے ، جس کے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن شرط یہ ہے کہ تمہیں بہر حال میری باتیں ماننی ہوں گی یہی کہ میری عبادت کرو، اپنے دل میں نوع انسان کی ہمدردی پیدا کرو، کبھی کسی انسان کو تمہارے سے دکھ نہ پہنچے اور دکھ پہنچانے والی ہر چیز سے تمہیں نفرت ہو۔ہر وقت لوگوں کی بھلائی کا سوچو اور