خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 112
$2004 112 خطبات مسرور ہے، قرض واپس کر سکتا ہے کہ نہیں۔پھر ایک دوسری روایت میں حضرت صہیب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی اس نیت سے کوئی چیز خریدتا ہے کہ وہ اس کی قیمت ادا نہ کرے گا تو جس دن وہ مرے گا وہ خائن ہوگا اور خائن جہنمی ہے۔(مجمع الزوائد جلد ٤ صفحه ١٣١) بعض لوگ چیزیں ادھار خرید لیتے ہیں یہ بھی ایک طرح کا قرض ہے ایسے لوگوں کے بارہ میں بھی بڑا انذار ہے۔حضرت طلیقہ مسیح الا فی اس بارہ میں فرماتے ہیں: خا فَإِنْ آمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤةِ الَّذِى اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ - اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے متعلق مطمئن ہو اور اسے بلا رہن روپیہ دے دے تو وہ شخص جسے روپیہ دیا گیا ہے اور جسے امین جانا گیا ہے اس کا فرض ہے کہ دوسرے کے مطالبہ پر روپیہ بلا حجت واپس کر دے اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔اس جگہ قرض کو امانت قرار دیا گیا ہے جس میں یہ حکمت ہے کہ دنیا میں عام طور پر امانت کی ادائیگی تو ضروری سمجھی جاتی ہے۔لیکن قرض کی ادائیگی میں نا واجب تساہل اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرض بھی ایک امانت ہی کی قسم ہے اس آیت سے ہر قسم کی امانتوں کی حفاظت اور ان کی بروقت واپسی کا بھی ایک عام سبق ملتا ہے جس کی طرف قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لَا مَنتِهِمُ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ﴾ (المومنون: 9) میں بھی اشارہ کیا گیا ہے اور نصیحت فرمائی ہے کہ تمدنی معاملات کی ایک اہم شاخ دوسرے کے پاس امانت رکھوانا بھی ہے۔پس نہ صرف قرض کے معاملات میں بلکہ امانت کے معاملہ میں بھی تمہیں تقویٰ اللہ سے کام لینا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ امانت لینے والا آئے اور تم واپسی میں پس و پیش کرنے لگ جاؤ۔( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۶۴۹،۶۴۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ ایک