خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 94
94 $2004 خطبات مسرور اور مکمل طور پر صاحب وقار ہوگی تو کسی کو جرات نہیں ہو سکتی کہ ایک نظر کے بعد دوسری نظر ڈالے۔پھر ہمارے معاشرے میں زیور وغیرہ کی نمائش کا بھی بہت شوق ہے۔گو چوروں ڈاکوؤں کے خوف سے اب اس طرح تو نہیں پہنا جاتا لیکن پھر بھی شادی بیاہوں پر اس طرح بعض دفعہ کہ راستوں سے عورتیں گزر کر جا رہی ہوتی ہیں جہاں مرد بھی کھڑے ہوتے ہیں ہو جاتا ہے اور وہاں ڈگر ڈگر زیور کی نمائش بھی ہو رہی ہوتی ہے۔تو اس سے بھی احتیاط کرنی چاہئے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ نے پاؤں زمین پر مارنے سے ایک یہ بھی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شریعت نے ناچ یا ڈانس کو بھی مکمل طور پر منع کر دیا ہے کیونکہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے اور بعض عورتیں کہتی ہیں کہ عورتیں عورتوں میں ناچ لیں تو کیا حرج ہے؟ عورتوں کے عورتوں میں ناچنے میں بھی حرج ہے۔قرآن کریم نے کہہ دیا ہے کہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے تو بہر حال ہر احمدی عورت نے اس حکم کی پابندی کرنی ہے۔اگر کہیں شادی بیاہ وغیرہ میں اس قسم کی اطلاع ملتی ہے کہ کہیں ڈانس وغیرہ یا ناچ ہوا ہے تو وہاں بہر حال نظام کو حرکت میں آنا چاہئے اور ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔اب بعض عورتیں ایسی ہیں جن کی تربیت میں کمی ہے کہہ دیتی ہیں کہ ربوہ جاؤ تو وہاں تو لگتا ہے کہ شادی اور مرگ میں کوئی فرق نہیں ہے۔کوئی ناچ نہیں، کوئی گانا نہیں، کچھ نہیں۔تو اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ شرفاء کا ناچ اور ڈانس سے کوئی تعلق نہیں۔اور اگر کسی کو اعتراض ہے تو ایسی شادیوں میں نہ شامل ہو۔جہاں تک گانے کا تعلق ہے تو شریفانہ قسم کے ، شادی کے گانے لڑکیاں گاتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔پھر دعائیہ نظمیں ہیں جو پڑھی جاتی ہیں۔تو یہ کس طرح کہ سکتی ہیں کہ شادی میں اور موت میں کوئی فرق نہیں، یہ سوچوں کی کمی ہے۔ایسے لوگوں کو اپنی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم تو دعاؤں سے ہی نئے شادی شدہ جوڑوں کو رخصت کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی نئی زندگی کا ہر لحاظ سے بابرکت آغاز کریں اور ان کو اس خوشی کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی ضرورت