خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 93
93 $2004 خطبات مسرور وغیرہ میں اور بعض دیگر ممالک میں ایسی شکایات پیدا ہوئی ہیں کہ بعض لوگوں کے گروہ بنے ہوئے ہیں جو آہستہ آہستہ پہلے علمی باتیں کر کے یا دوسری باتیں کر کے چارہ ڈالتے ہیں اور پھر دوستیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر غلط راستوں پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔میں متعدد بارانٹرنیٹ کے رابطوں کے بارہ میں احتیاط کا کہہ چکا ہوں۔بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔یہ باپوں کی بھی ذمہ داری ہے، یہ ماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ انٹرنیٹ کے رابطوں کے بارہ میں بچوں کو ہوشیار کریں۔خاص طور پر بچیوں کو۔اللہ تعالیٰ ہماری بچیوں کو محفوظ رکھے۔تو ملازم رکھنے ہوں یا دوستیاں کرنی ہوں جس کو آپ اپنے گھر میں لے کر آرہے ہیں اس کے بارہ میں بہت چھان بین کر لیا کریں۔آج کل کا معاشرہ ایسا نہیں کہ ہر ایک کو بلا سوچے سمجھے اپنے گھر میں لے آئیں۔یہ قرآن کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنے میں ہی ہماری بھلائی ہے۔پھر بعض جگہوں پر یہ بھی رواج ہے کہ ہر قسم کے ملازمین کے سامنے بے حجابانہ آجاتے ہیں۔تو سوائے گھروں کے وہ ملازمین یا وہ بچے جو بچوں میں پلے بڑھے ہیں یا پھر بہت ہی ادھیڑ عمر کے ہیں۔جو اس عمر سے گزر چکے ہیں کہ کسی قسم کی بدنظری کا خیال پیدا ہوا یا گھر کی باتیں باہر نکالنے کا ان کو کوئی خیال ہو۔اس کے علاوہ ہر قسم کے لوگوں سے، ملازمین سے، پردہ کرنا چاہئے۔بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے ملازمین جن کو ملازمت میں آئے چند ماہ ہی ہوئے ہوتے ہیں، بے دھڑک بیڈ روم میں بھی آجارہے ہوتے ہیں اور عورتیں اور بچیاں بعض دفعہ وہاں بغیر دوپٹوں کے بھی بیٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔اور اس کو روشن دماغی کا نام دیا جاتا ہے۔یہ روشن دماغی نہیں ہے۔جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو پچھتاتے ہیں۔پھر جو چھوٹ ہے اس آیت میں وہ چھوٹے بچوں سے پردہ کی ہے۔فرمایا کہ چال بھی تمہاری اچھی ہونی چاہئے ، باوقار ہونی چاہئے ، یونہی پاؤں زمین پر مار کے نہ چلو۔اور ایسی با وقار چال ہو کہ کسی کو جرات نہ ہو کہ تمہاری طرف غلط نظر سے دیکھ بھی سکے۔جب تم پردوں میں ہوگی