خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 950
950 $2004 خطبات مسرور اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کوتا ہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالی اس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔اور اسے بہشت نصیب نہیں کرے گا۔(مسلم کتاب الايمان ـ باب استحقاق الوالى الغاش لرعية النار) اب دیکھیں اس انذار کے بعد کون ہے جو بڑھ بڑھ کر اختیارات کو حاصل کرنے کی خواہش کرے یا عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش کرے۔یہ تو ایسا خوف کا مقام ہے کہ اگر صحیح فہم اور ادراک ہو تو انسان ایک کونے میں لگ کے بیٹھ جائے۔پس عہد یدار اس فضل الہی کی قدر کریں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔اللہ تعالیٰ کا غضب لینے کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے بنیں۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حا کم ہوگا اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہوگا۔(ترمذی ابواب الاحكام باب فى الامام العادل پس سب کو چاہئے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محبوب بنیں۔اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے وہ طریقے اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتائے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ عمر و بن مرہ نے حضرت معاویہؓ سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجتمندوں، ناداروں غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔(ترمذى كتاب الاحكام باب في امام الرعية)