خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 939
$2004 939 خطبات مسرور آکے پہلے بتاؤ۔اس لئے ہمارے مخلصوں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی ایک فہرست اسماء ( ناموں کی ایک فہرست) بقید عمرو قومیت بھیج دیں تا وہ کتاب میں درج ہو جائے۔(مجموعه اشتهارات جلد سوم - صفحه 51,50 یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے ایک اعلان تھا۔اسی کے تحت اب یہ شعبہ رشتہ ناطہ مرکز میں بھی قائم ہے، تمام دنیا میں بھی قائم ہے ، بعض انفرادی طور پر بھی لوگ دلچسپی رکھتے ہیں۔ان کے سپر د بھی یہ کام جماعتی طور پر کیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رشتے طے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بعض مشکلات ہیں۔اللہ تعالیٰ وہ بھی دور فرمائے لیکن اس میں ان لوگوں کا تسلی بخش جواب بھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ باہر ہمیں رشتے کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔فرمایا کہ اگر خود ایسے لوگ کا فرنہیں کہتے یا فتوے نہیں لگاتے لیکن ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان کی ہاں میں ہاں ملا تے ہیں۔خوف کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے ان کی مسجدوں میں جاتے ہیں ان کی باتیں سنتے ہیں تو وہ انہی لوگوں میں شامل ہیں اور ایسے لوگوں سے رشتہ داریاں نہیں کرنی چاہئیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے نام بھیجیں۔اب ہمارا یہ شعبہ رشتہ ناطہ ہے جیسا کہ میں نے کہا جماعت میں ہر جگہ قائم ہے ان کے خلاف عموماً یہ شکایات ہوتی ہیں کہ لڑکیوں کے رشتے نہیں کرواتے۔اس کی ایک تو یہ وقت ہے کہ ماں باپ لڑکیوں کے نام بھجوا دیتے ہیں لیکن لڑکوں کے نام نہیں بھجواتے۔اگر لڑ کے بھی فہرست میں ہوں تو پھر ہی رشتے کروانے میں سہولت بھی ہوگی۔عموماً لڑکیوں کی تعداد نسبتا لڑکوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ٹھیک ہے۔لیکن نسبت اتنی زیادہ ہی ہے کہ اگر 51-52 لڑکیاں ہیں تو 48 ،49 لڑکے ہوں گے۔لیکن جو جماعت کے پاس کوائف آتے ہیں اس میں اگر 7-8 لڑکیوں کے کوائف ہوتے ہیں تو ایک لڑکے کے کوائف ہوتے ہیں۔اس طرح تو پھر رشتے ملانے بہت مشکل ہو جاتے ہیں۔اگر دونوں طرف کے مکمل کوائف آئیں تو رشتے کروانے میں سہولت ہوگی۔لڑکوں کے رشتے بعض دفعہ ماں باپ دونوں ہی بلکہ اکثر خود کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔سوائے قریبی