خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 917 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 917

917 $2004 خطبات مسرور ہے۔تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔رحم کا لفظ رحمن سے ہے جو صلہ رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ساتھ ملالے گا۔اور جو قطع رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے قطع تعلقی کر لے گا۔(ترمذی كتاب البر والصلة باب ماجاء في رحمة الناس ایک روایت میں آتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور بڑے کا شرف نہیں پہچانتا۔یعنی بڑے کی عزت نہیں کرتا۔پھر ایسے لوگوں کو جو کمزوروں، غریبوں، مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے ، انذار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں ، حارثہ بن وھب سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کیا جنت میں بسنے والوں کے متعلق میں تمہیں کچھ بتاؤں۔ہر وہ کمزور جس کو لوگ کمزور سمجھتے ہیں مگر جب وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے نام کی قسم کھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دیتا ہے اور جیسا وہ چاہتا ہے ویسا ہی کر دیتا ہے۔پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں دوزخ میں رہنے والوں کے متعلق نہ بتاؤں۔ہر سرکش، خود پسند ، شعله مزاج یعنی تیز مزاج والا، متکبر دوزخ کا ایندھن بنے گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے آپ کے نور کامل سے روشنی حاصل کر کے کس طرح ہمیں اس پہلو سے نصیحت فرمائی ہے اور کیا عمل کر کے دکھائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو اسی لئے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں۔اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو میرے پاس آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ ! خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه 370 الحكم 17 جولائی 1903)