خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 916
$2004 916 خطبات مسرور لئے تھے کہ امت کے لوگ بھی ، آپ کو ماننے والے بھی اپنے معیاروں کو بلند کر کے ان نمونوں پر عمل کر کے حسن اخلاق کے اعلیٰ معیار قائم کریں تبھی تو آپ نے فرمایا ہے کہ میری بعثت کا مقصد ان اعلیٰ اخلاق کی تکمیل ہے۔آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی امت کا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کا ناپسندیدہ بنے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مخلوقات اللہ کی عیال ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کی عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔یعنی اس کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔کمزوروں کے حقوق کے بارے میں آپ نے اپنی امت کے لوگوں کو جو نصائح فرمائی ہیں اب اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے میں قیامت کے دن سخت باز پرس کروں گا۔ایک وہ جس نے میرے نام پر کسی کو امان دی اور اس سے غداری کی۔دوسرا وہ جس نے ایک آزاد کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھالی یعنی کسی کو پکڑ کر غلام بنایا اور فروخت کیا اور تیسرا شخص وہ جس نے کسی کو مزدوری پر رکھا اور اس سے پورا پورا کام لیا اور پھر اسے پوری مزدوری نہ دی۔یعنی مزدور کی مزدوری کی اجرت نہ دی۔کام کی اجرت نہ دی۔(بخاری کتاب البیوع باب اثم من باع حرا)۔تو یہ عادت اب بھی ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کو ہوتی ہے۔یا تو کام کروانے سے پہلے یہ شرط رکھنی چاہئے کہ اگر کام اس معیار کا نہ ہوا اور یہ یہ چیزیں نہ ہوئیں تو میں اتنی کم قیمت دوں گا۔اور اگر نہیں تو پھر کام ہو جانے کے بعد کسی کی مزدوری مارنے کے لئے بہانے تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ضرور ایسے شخص سے باز پرس کروں گا۔پس اللہ کی باز پرس سے ڈرنا چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا