خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 844 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 844

$2004 844 خطبات مسرور وو کو علم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستا رہے۔تمہیں چاہئے کہ تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ الله بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آ گیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے آپ نے واقعہ بیان فرمایا ر شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق اور معارف بیان کیا کرتا تھا۔زیادہ لائق تھا ، اس کو زیادہ سمجھ آتی تھی اور دوسرے کو اتنی سمجھ نہیں تھی، تو وہ دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا۔وہ حسد کر کے دوزخ میں چلا گیا اور تو نے غیبت کی۔وہ حسد کر کے دوزخ میں جا رہا ہے اور تم غیبت کر کے دوزخ میں جارہے ہو۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم، دعا، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحه ٦١،٦٠ البدر ٨ جولائى (١٩٠٤ پھر آپ نے فرمایا : ” ہماری جماعت کو چاہئے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں۔لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دور نہیں ہوسکتا۔اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعہ سے دوسرے بھائی کی مدد کر نی چاہئے“۔(ملفوظات جلد ٤ صفحه ٦٠ البدر ٨ جولائی (١٩٠٤ پس یہ حالت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کی دیکھنا چاہتے ہیں۔اور یہ حالت ہے جو ہم نے اپنے اندر پیدا کرنی ہے انشاء اللہ۔باوجود اس کے کہ جماعت بعض قربانی کے معیاروں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت آگے نکل چکی ہے۔وفا اور اخلاص میں بھی بہت زیادہ ہے الحمدللہ۔لیکن بعض چھوٹی چھوٹی برائیاں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ دوسرے کی کمزوریوں کو لے کر اس کی تشہیر کرنا اور دوسروں کو بتانا۔تو ان چیزوں کی طرف توجہ دینے کی بہت