خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 843 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 843

843 $2004 خطبات مسرور نہیں ہوتا۔فرمایا حدیث میں آیا ہے کہ جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے خدا تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا ہے انسان کو چاہئے کہ شوخ نہ ہو، بے حیائی نہ کرے، مخلوق سے بدسلوکی نہ کرے، محبت اور نیکی سے پیش آوے“۔(ملفوظات جلد 5 صفحه ٦٠٩٠٦٠٨ الحكم ١٨ مئى ١٩٠٨ء پھر آپ نے فرمایا ، یہ شروع زمانہ کی بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے بعض کمزور ہیں جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے بعض میں کچھ طاقت آ گئی ہے۔پس چاہئے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔اگر نہ مانے تو اس کے لئے دعا کرے اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضا و قدر کا معاملہ سمجھے۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتا ہے۔بلکہ لکھا ہے الْقُطْبُ قَدْ يَزْنِی کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لئے پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلا ؤ۔اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو۔بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْ بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد: 18 ) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے۔اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لئے رو رو کر دعا کی ہو۔سعدی کا قول لکھا ہے کہ خدا داند بپوشد و همسایه نداند و خرو شد که خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے مگر ہمسایہ