خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 764 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 764

$2004 764 خطبات مسرور جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، بہت فضل ہے جماعت پر کہ دوسروں کے مقابلے میں جماعت کی ایک بڑی تعداد نمازیں ادا کرنے والی ہے، نمازیں پڑھنے والی ہے۔لیکن باجماعت نمازوں کی طرف ابھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اس میں ابھی بہت کمی ہے۔تو یہ رمضان ہمیں ایک دفعہ پھر موقع دے رہا ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں جس طرح جھکنے کا حق ہے۔اس کی عبادت کریں، جس طرح عبادت کرنے کا حق ہے تو اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کا یقیناً جواب دے گا۔اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم ان عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔اگر یہ ہو جائے تو اس سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی سالوں میں ہونے والی ترقیات کو دنوں میں واقع ہوتے دیکھیں گے۔اس لئے میں پھر یہی کہوں گا کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔دوسروں کے پاس دعائیں کروانے کی بجائے ( بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ اپنا اپنا ایک حلقہ بنایا ہوا ہے، وہاں دعائیں کروانے کے لئے جاتے ہیں، اور خود توجہ نہیں ہوتی )۔خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی قدرتوں کا تجربہ حاصل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ : ” پیر بنیں۔پیر پرست نہ بنیں“۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ بعض رپورٹیں ایسی آتی ہیں، اطلاعیں ملتی رہتی ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی بعض جگہ ربوہ میں بھی کہ بعض احمد یوں نے اپنے دعا گو بزرگ بنائے ہوئے ہیں۔اور وہ بزرگ بھی میرے نزدیک نام نہاد ہیں جو پیسے لے کر یا ویسے تعویذ وغیرہ دیتے ہیں یا دعا کرتے ہیں کہ 20 دن کی دوائی لے جاؤ ، 20 دن کا پانی لے جاؤ یا تعویذ لے جاؤ۔یہ سب فضولیات اور لغویات ہیں۔میرے نزدیک تو وہ احمدی نہیں ہیں جو اس طرح تعویذ وغیرہ کرتے ہیں۔ایسے لوگوں سے دعا کروانے والا بھی یہ سمجھتا ہے کہ میں جو مرضی کرتا رہوں ،لوگوں کے حق مارتا رہوں ، میں نے اپنے بزرگ سے دعا کر والی ہے اس لئے بخشا گیا، یا میرے کام ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مومن کہلانا ہے تو میری عبادت کرو، اور تم کہتے ہو کہ پیر صاحب کی دعا ئیں ہمارے لئے کافی