خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 726 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 726

$2004 726 خطبات مسرور سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرا یہ میں دوست بنادیتی ہے۔پس جَادِلْهُمْ بِالَّتِی هِيَ أَحْسَنُ کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ﴾ (البقرة: 270) (الحكم جلد 7 نمبر 9 مورخه 10 مارچ 1903ء صفحہ 8 | تو یہ حکمت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ، ہم سب کو اختیار کرنی ہو گی۔اپنے دوستوں کا حلقہ وسیع کرنا ہوگا۔پھر ایک تعارف سے دوسرے تعارف نکلتے چلے جائیں گے۔اور جب لوگ آپ کو ایک امن پسند اور ٹھنڈے مزاج کا آدمی سمجھتے ہوئے تعارف حاصل کریں تو یقیناً یہ تعارف مزید مضبوط رابطوں میں تبدیل ہوں گے اور پھل لانے والے ثابت ہوں گے۔لیکن ایک بات یادرکھیں کہ حکمت اور بزدلی میں فرق ہے۔حکمت دکھانی ہے اپنے دین کی غیرت رکھتے ہوئے۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: آیت جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن کا یہ منشاء نہیں ہے کہ ہم اس قدر رنرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کرلیں۔(تریاق ) ترياق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحه 305 حاشیه) یعنی حکمت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بزدلی دکھائی جائے ، یہ نہیں ہے کہ اپنے قریب لانے کے لئے جو ہماری تعلیم نہیں ہے اس میں بھی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں تو اس وقت چپ ہو جائیں کہ اس کو حکمت سے قریب لانا ہے۔یہ تو پھر شرک کے مددگار بننے والی بات ہو جائے گی۔اور بہت سارے طریقے اور جواب ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل