خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 714 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 714

$2004 714 خطبات مسرور لجنات کو اس طرف توجہ دلائیں کہ جب مسجدوں میں آئیں تو پہلے پہلی صف مکمل کریں، پھر دوسری صف اور جو بچوں والی خواتین ہیں وہ آخر میں جا کے بچوں کو علیحدہ لے کے بیٹھیں۔اوّل تو بچوں کے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ان پہ اتنا فرض ہی نہیں لیکن عیدوں اور جمعوں پہ جہاں علیحدہ انتظام ہوتا ہے، وہاں بیٹھنا چاہئے اور صفیں بہر حال تسلسل سے بنی چاہئیں اور قائم رہنی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے استغفار ہے، درودشریف۔تمام وظائف اور اوراد 66 کا مجموعہ یہی نماز ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 310-311 الحکم 31مئی 1903) میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ بعض لوگ خط لکھتے ہیں کہ کوئی خاص دعا، کوئی خاص وظیفے بتائیں ، ملاقات میں بھی بعض عورتیں اور مرد اس بات کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب پوچھو تو پتہ لگتا ہے کہ بعض خواتین بھی مرد بھی نمازیں بھی پوری نہیں پڑھ رہے ہوتے اور وظیفے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔حالانکہ پہلے بنیادی حکموں پر تو عمل کریں اور جب اس پر عمل کریں گے تو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تمام باتیں ، وظیفے ، ذکر اسی میں آجائیں گے۔نماز کو ہی اگر سنوار کر پڑھا جائے تو اسی میں تسلی ہو جاتی ہے۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے فرمایا: ”نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔یہ کاروباری لوگوں کے لئے ہے ذرا نوٹ کرلیں) مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں ہے تو ہے ہی کیا؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔