خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 650
$2004 650 مسرور یہ حقوق العباد کیا ہیں؟ اپنے رشتہ داروں سے عزیزوں سے حسن سلوک کرنا۔پھر ان میں سب سے پہلے اپنی بیویوں کے حقوق ادا کرنا، بیویوں کو خاوند کے حقوق ادا کرنا، میاں بیوی کو ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا، غرباء کی دیکھ بھال کرنا، جماعت میں بھی اس کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔اس کے تحت مالی قربانی کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے وسیع پیمانے پر غرباء اور بیوگان کی مدد کی جاتی ہے، یتامیٰ کی مدد کی جاتی ہے اس میں حصہ لیں۔لڑائی جھگڑے سے پر ہیز کرنا۔کاروباری شراکتوں میں بھی بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ جھگڑوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ایک احمدی کو تو کبھی سوچنا بھی نہیں چاہئے کہ وہ دھو کے سے کسی دوسرے کا مال کھائے گا اس سے مدد پر ہیز کرنا چاہئے۔اس لئے ہمیشہ استغفار کرتے ہوئے ، اس سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ سے ، مانگنی چاہئے۔جب اس طرح توجہ سے ہر احمدی نیکیوں پر قائم ہونے کی کوشش کرے گا تبھی وہ اس دعوے میں سچا ہو سکتا ہے کہ ہم نہ صرف نیکیوں پر قائم رہنے والے ہیں بلکہ اس کو پھیلانے والے ہیں۔اور نیکیوں کو اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ورنہ تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ آج کل کے دنیا داروں اور دنیاوی تنظیموں کی مثال ہوگی۔ہمارا بھی وہی حال ہو جائے گا ، خدا نہ کرے کہ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔یہاں مجھے یاد آ گیا۔یورپ کے ایک ملک کے بڑے منجھے ہوئے اور سلجھے ہوئے سیاستدان ہیں، مجھے ملنے آئے کہ میں ابھی ایک ملک سے جنیوا سے یا کسی اور جگہ سے دورہ کر کے آ رہا ہوں۔اور ایک کمیٹی یورپین ملکوں کی بنائی گئی ہے کہ کس طرح غریب ملکوں کی مدد کی جائے اور ہم نے بڑا پلان بنایا ہے اور منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔میں نے ان سے کہا کہ بڑی اچھی نیکی کی بات ہے، ضرور کرنا چاہئے۔امیر ملکوں کو غریب ملکوں کی مدد کرنی چاہئے لیکن یہ بتائیں کہ یہ ان یورپین ممالک کا پہلا منصوبہ ہے یا پہلے بھی ماضی میں اس