خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 605

605 $2004 خطبات مسرور تو پھر مغفرت ہوگی۔پھر فرمایا کہ تقویٰ کے معیار بھی اس وقت قائم ہوں گے بلکہ تم تقویٰ پر قدم مارنے والے اس وقت شمار ہو گے جب اطاعت گزار بھی ہو گے۔اور جب تم اپنی اطاعت کے معیار بلند کر لو گے تو فرمایا تم ہماری جنتوں کے وارث ٹھہرو گے۔تو اس طرح اور بھی بہت سے احکام ہیں جو مومنوں کو اطاعت کے سلسلہ میں دیئے گئے ہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی خدا تعالیٰ نے اطاعت کے مضمون کو ہی بیان فرمایا ہے، یہ فرمانے کے بعد کہ اے مومنو! اے وہ لوگو! جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہم اللہ پر بھی ایمان لائے اور اس کے رسول پر بھی ایمان لائے ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پیروی کرو۔اور پھر ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ تمہارے جو عہدیدار ہیں، تمہارے جو امیر ہیں تمہارا جو بنایا ہوا نظام ہے، جو نظام تمہیں دیا گیا ہے اس کی بھی اطاعت کرو۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اختلاف کی صورت میں اللہ اور رسول کی طرف معاملہ لوٹانے کا حکم ہے۔یعنی یہ کہ اگر اختلاف ہو تو قرآن اور حدیث کی طرف جاؤ۔وہاں سے دیکھو کہ کیا حکم ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اختلاف کی صورت میں ہر کوئی ، جس کو علم نہ بھی ہوا اپنے مطابق خود ہی تشریح و تفسیر کرنے لگ جائے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہی ہے کہ جب آپس میں لوگوں کے اختلاف ہو جاتے ہیں تو کیونکہ تمام معاملات ، ہدایات اور احکامات کی تشریح و تفسیر کا کس کو پتہ نہیں ہوتا، بعض ایسے احکامات ہیں جو تفسیر طلب ہوتے ہیں اور ہر ایک کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لئے قرآن وحدیث کے حوالے لینے کے لئے جو اس کا علم رکھنے والے ہیں ان سے بھی پوچھنا پڑے گا، ان کی طرف بھی جانا پڑے گا۔اسلام کے ظلمت کے زمانے میں بھی ، جو ہزار سال تاریکی کا دور گزرا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ مفسرین اور مجددین پیدا فرما تا رہا جو دین کا علم رکھتے تھے اور وہ اپنے اپنے علاقے میں رہنمائی فرماتے رہے۔لیکن اس زمانے میں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے حکم اور عدل بنا کر بھیجا ہے اس دور میں