خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 578
578 $2004 خطبات مسرور عرض کیا تین دینار ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔(یعنی آپ نے نہیں پڑھائی اور کہا کہ دوسرے پڑھ لیں )۔تو ابو قتادہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس کا جنازہ پڑھا دیں۔اس کا قرض میرے ذمہ ہے اس پر آنحضور نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔(بخارى كتاب الحوالة باب اذا احال دين الميت على رجل (جاز) ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ( یہ آپ دعا کر رہے تھے ) ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا قرض کا معاملہ کفر کے برابر کیا جائے گا؟ اس پر رسول اللہ نے فرمایا ہاں“۔(مسند احمد بن حنبل مسند باقي المكثرين جلد ۳ صفحه ۳۸) بہت بڑا انذار ہے۔ایک طرف تو ہم ایمان لانے کا دعوی کریں مومنوں میں شمار ہونے کی خواہش کریں دوسری طرف بلاوجہ قرضوں میں پھنس کر دین سے دور ہٹ رہے ہوں۔قرض ادا کرنے کے معاملے میں لیت و لعل سے کام لینے والے ہوں اور کفر کی طرف بڑھ رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں گناہوں اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں کسی کہنے والے نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے قرض کے بارے میں کتنی ہی زیادہ پناہ طلب کرتے ہیں۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک شخص جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے خلاف ورزی کرتا ہے“۔(بخاری کتاب الاستقراض واداء الديون باب من استعاذ من (الدين اس سے پہلی حدیث کی بھی مزید وضاحت ہو گئی تو پھر جھوٹ اور وعدہ خلافی جب بڑھنے شروع ہوتے ہیں یہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”عدل کی حالت یہ ہے جو تقی کی حالت نفس امارہ کی صورت میں ہوتی ہے۔اس حالت کی اصلاح کیلئے عدل کا حکم ہے اس لئے