خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 511
$2004 511 خطبات مسرور آپ صبح کے وقت آتے تو لوگوں کو نماز کے لئے اٹھاتے۔راوی کہتے ہیں جب میرے پاس سے گزرے تو میں اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔آپ نے دریافت فرمایا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا میں عبداللہ بن طیفہ ہوں۔آپ فرمانے لگے سونے کا یہ انداز ایسا ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5صفحه 326 مطبوعه (بيروت) الٹے ہو کر سونا بھی ناپسندیدہ فعل ہے۔سیدھے سونا چاہئے اور بہتر یہی ہے کہ دائیں کروٹ سوئیں۔اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو۔جیسا کہ ہر معاملے میں جو بھی جماعتی طور پر ذمہ داریاں بانٹی جاتی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حصہ میں ضرور کچھ نہ کچھ ذمہ داری لیا کرتے تھے۔یہاں بھی جب مہمانوں کو گھروں میں لے جانے کا موقع آیا تو آپ کچھ مہمانوں کو اپنے ساتھ گھر لے گئے اور لگتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے جو بھی خوراک تیار کی ہوئی تھی ، جیسا کہ روایت سے ظاہر ہے، وہ بہت تھوڑی مقدار میں تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کی گئی تھی۔جب آپ کو بتایا گیا کہ یہ خوراک تھوڑی سی مقدار میں ہے، آپ کی افطاری کے لئے تیار کی گئی ہے تو آپ نے اس وجہ سے بھی کہ آپ روزے دار تھے اور افطاری کرنی تھی اور اس لئے بھی کہ آپ کو پتہ تھا کہ آپ پہلے منہ لگائیں گے تو اللہ تعالیٰ اس خوراک میں برکت ڈال دے گا، پہلے خود کھایا اور پھر باقیوں کو دیا کہ اب کھاؤ۔اور وہ بھی بغیر دیکھے کھاتے گئے۔جتنے بھی لوگ تھے سب نے سیر ہو کر کھانا کھایا۔پھر پینے کے لئے حریرہ منگوایا تو یہاں روزہ کھولنے والی بات تو کوئی نہیں، زیادہ غالب یہی ہے کہ اس لئے کہ اس خوراک میں برکت پڑ جائے اس کو بھی پہلے آپ نے خود پیا۔تو اسی طرح اور بھی کھانے کے بہت سارے واقعات ہیں آپ پہلے لیتے تھے۔مقصد یہی ہوتا تھا کہ اس میں برکت پڑ جائے کیونکہ جب میں کھاؤں گا ، دعا کروں گا تو اس خوراک میں برکت ہو جائے گی۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خوراک پہلے استعمال کی یہ اصل میں مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کے لئے تھا کہ تھوڑی سی خوراک