خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 46

خطبات مسرور $2004 46 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَ قَضَى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَ ِبالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُقٍ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۔وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا بنی اسرآئیل: ۲۵،۲۴) اللہ تعالیٰ نے والدین سے حسن سلوک کے بارہ میں بڑی تاکید فرمائی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روکیں۔یا شرک کی تعلیم دیں۔اس کے علاوہ ہر بات میں ان کی اطاعت کا حکم ہے۔اور یہ حکم اس لئے ہے کہ جو خدمت انہوں نے بچپن میں ہماری کی ہے اس کا بدلہ تو ہم نہیں اتار سکتے۔اس لئے یہ حکم ہے کہ ان کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کے لئے دعا بھی کرو کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور بڑھاپے کی اس عمر میں بھی ان کو ہماری طرف سے کسی قسم کا کبھی کوئی دیکھ نہ پہنچے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدمت اور دعا کے باوجود یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کی بہت خدمت کر لی اور ان کا حق ادا ہو گیا۔اس کے باوجود بچے جو ہیں اس قابل نہیں کہ والدین کا وہ احسان استارسکیں جو انہوں نے بچپن میں ان پر کیا۔اس ضمن میں جو دو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور تیرے رب نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک