خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 496

$2004 496 خطبات مسرور راستوں پر نہ بیٹھنے سے انکار کرتے ہو یعنی اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں ہے تو پھر رستے کو اس کا حق دو۔اس پر صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! راستے کا کیا حق ہے۔تو آپ نے فرمایا غض بصر سے کام لینا۔پھر اپنی آنکھیں نیچی رکھو، ہر ایک کو دیکھتے نہ رہو۔اور تکلیف دہ چیزوں کو دور کرنا۔وہاں بیٹھے ہوئے بازار میں کوئی تکلیف دہ چیز دیکھو یا سڑک پر تو اس کو ہٹانے کی کوشش کرو، بعض لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان میں بھی صلح و صفائی کرانے کی کوشش کرو۔پھر سلام کا جواب دینا، نیک باتوں کا حکم دینا۔اگر کہیں بری بات دیکھو تو پیار سے سمجھاؤ۔اور نا پسندیدہ باتوں سے منع کرنا۔(ابوداؤد كتاب الادب باب فى الجلوس بالطرقات) راستے کی مجلسیں لگانے والوں کو فرمایا کہ اگر ایسی مجبوری ہے کہ تم اس کو چھوڑ نہیں سکتے تو یہ جو باتیں گنوائی گئی ہیں اس حدیث میں تو ان کی طرف توجہ دو اور یہ راستے کے حق ہیں اور ان کو ادا کرو تب تم راستے میں مجلس لگانے کا حق ادا کر رہے ہو گے۔نہیں تو پھر کوئی حق نہیں پہنچتا کہ مجلسیں لگاؤ۔پھر مجلس میں بیٹھنے کے آداب ہیں بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اس طرح بیٹھے ہیں ایسا زاویہ ہوتا ہے کہ دائیں بائیں (اگر کہیں رش ہے تو ) کوئی دوسرا بیٹھ نہ سکے، باوجود اس کے کہ جگہ ہوسکتی ہے۔تو ایسی مجالس میں جہاں رش کا زیادہ امکان ہو ہمیشہ اس طریق سے بیٹھنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے جگہ بنا سکے ، اس سے وسعت قلبی بھی پیدا ہوتی ہے اور ایک مومن کی یہی شان ہے کہ اپنے دل کو وسیع کرے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہترین مجالس وہ ہیں جو کشادہ ہوں“۔(ابوداؤد) كتاب الادب باب في سعة المجلس تو آنحضرت عمﷺ کا تو ہر فعل اور آپ کا ہر خلق قرآن کریم کے مطابق تھا تو یہ بھی تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجَالِس کی ہی تشریح ہے کیونکہ اگر یہ کشادگی پیدا ہوگی اور خوش دلی سے جگہ کو کشادہ کرو گے تو آپس میں محبت اور اخوت بھی بڑھے گی۔اور اس وجہ سے شیطان تمہارے اندر نجشیں پیدا نہیں کر سکے گا بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہو گے۔مجالس میں بیٹھنے کے ضمن میں ایک روایت میں آتا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اس