خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 436
436 $2004 خطبات مسرور تو یہ تو فرمایا کہ سفر میں دعائیں مانگو اور یہ بھی ہمیں بتا دیا کہ کیا کیا دعائیں مانگو کچھ تو میں پہلے بتا آیا ہوں۔ان دعاؤں کے بارے میں ایک اور بھی روایت ملتی ہے کہ کیا دعا مانگنی چاہئے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو آپ دعا کرتے کہ اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔میں تجھ سے اور جو کچھ تیرے اندر ہے اس کے شر سے، اور جو کچھ تیرے اندر پیدا کیا گیا ہے اس کے شر سے، اور جو کچھ تیرے اوپر چلتا ہے اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔اور میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور اثر دھا اور سانپ اور بچھو کے شر سے اور شہروں کے رہنے والوں سے اور بدی کا آغاز کرنے والے سے اور اس بدی سے جس کا اس نے آغاز کیا۔(سنن ابی داؤد کتاب الجهاد باب ما يقول الرجل اذا نزل المنزل تو دیکھیں کئی جگہ جب آدمی جاتا ہے تو بہت سے ناپسندیدہ واقعات ہو جاتے ہیں۔آپ نے ان سب سے پناہ مانگی ہے۔ان ملکوں میں آپ لوگ جو پاکستان سے آئے ہیں یا یہاں بھی سفر کرتے رہتے ہیں یا دنیا میں احمدی کہیں بھی سفر کر رہے ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو بعض برائیاں حملہ آور ہوتی ہیں ، ان سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔بہت زیادہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر یہاں کے ماحول کی آزادی اور بعض ایسی غلط باتیں ہیں جن سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہئے۔آپ کی روایات آپ کے مذہب کی تعلیم یہی ہے کہ ان باتوں سے بچو اور اپنی روایات کو قائم رکھو اور اس معاشرے کی برائیوں کا زیادہ اثر نہ لو۔لیکن اکثر لوگ اثر لے لیتے ہیں اور پھر وہ کہتے ہیں نا! ' کو اچلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔پھر نہ اپنی چال رہتی ہے نہ ہنس کی چال رہتی ہے۔تو کسی معاشرے کی اچھائیاں اپنانا اچھی بات ہے۔بلکہ یہ مومن کی گمشدہ چیز ہے، متاع ہے۔لیکن ہر معاشرے کی جو برائیاں ہیں ان سے ضرور بچنا چاہئے۔اور یہ اچھائی اور برائی کی تمیز آپ کو اس وقت ہوگی جب آپ کو دین کے بارے میں بھی صحیح علم