خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 430

$2004 430 مسرور صل الله ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میں سفر پر روانہ ہونا چاہتا ہوں مجھے زادراہ عطا کیجئے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے تقویٰ کی زادراہ عطا کرے۔اس نے عرض کی یارسول اللہ ! مجھے کچھ اور بھی دعاد بیجئے۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا: اللہ تیرے گناہوں کو بخش دے۔ابھی بھی اس کی تسلی نہیں ہوئی ، اس نے عرض کی: میرے والدین آپ پر قربان جائیں، مجھے کچھ اور دعا بھی دیجئے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جہاں کہیں بھی ہواللہ تعالیٰ تمہارے لئے خیر آسان کر دے۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء ما يقول اذا ودع انسانا) تو دیکھیں اس صحابی نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے کتنی جامع دعا منگوائی کہ سفر میں ہمیشہ ایسے حالات رہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی خیر اور فضل ملتا ر ہے۔اگر یہ ملتا رہا تو مجھے تقویٰ پر چلنے میں بھی آسانی رہے گی، میرے دل میں اس کا خوف اور خشیت بھی قائم رہے گا۔اور جب یہ قائم ہو جائے تو گناہوں سے بھی انسان بچتا رہتا ہے۔اس لئے سفر میں خاص طور پر دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ ! تقویٰ بھی تیرے فضل سے حاصل ہوتا ہے اس لئے ہمیشہ اپنا فضل فرما۔ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوں کہ میں دوسروں پر انحصار کر کے دل میں شکوہ پیدا کرنے والا بنوں اور تقویٰ سے دور ہو جاؤں۔اس لئے اپنی جناب سے ہی مجھے ہر خیر عنایت فرماتا رہ۔اس قسم کی دعا حضرت موسی نے بھی سفر میں اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی کہ رَبِّ اِنّى لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: (۲۵)۔اے اللہ میں تو مسافر آدمی ہوں تو ہی مجھے خیر فرما تارہ میں تو تیرا ہی محتاج ہوں اور محتاج رہنا چاہتا ہوں اور تیرے بغیر میں ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔الله پھر ایک روایت ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں سفر پر جانا چاہتا ہوں آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔آپ نے فرمایا: اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔جب بھی بلندی پر چڑھو تکبیر کہو، وہ آدمی