خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 308

خطبات مسرور 308 وسلم نے فرمایا کہ اچھا مال نیک آدمی کے لئے بہت اچھی چیز ہے“۔$2004 (مشكواة المصابيح كتاب الامارة باب وزق الولاة و هداهم الفصل الثاني مطلب یہ ہے کہ جب اچھا مال مل رہا ہو تو اس کا بھی انکار نہیں کرنا چاہئے اس سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں کیا۔نیک مال ہو اور نیک مقاصد کے لئے خرچ کرنے والا مال ہو تو اس کو حاصل کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔بلکہ برائی تو یہ ہے کہ صرف مال کی ہوس اور حرص ہو انسان اس کے پیچھے پڑا رہے اور خدا کو بھول جائے۔ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جسے دنیا سے بے رغبتی اور قلت کلام کی صفات عطا ہوئی ہوں تو اس کی مجلس کا قصد کر و یعنی اس میں بیٹھا کرو، اس سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ ایسا شخص حکمت کی باتیں کرنے والا ہوگا“۔میں نہ ہو۔(سنن ابن ماجه - كتاب الزهد باب الزهد في الدنيا اللہ تعالیٰ جماعت میں زیادہ سے زیادہ ایسے لوگ پیدا فرمائے۔دنیا کی حرص و ہوس ان حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشہور شاعر لبید نے یہ بات کہی۔اس سے زیادہ اور سچی بات کسی اور شاعر نے نہیں کہی۔یعنی اس نے یہ بہت سچی بات کہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز بے کار اور بے سود ہے۔ایک وہی سود و زیاں کا مالک ہے۔(مسلم کتاب الشعر ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی مختصر اور جامع نصیحت فرمائیں تو آپ نے فرمایا کہ جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس شخص کی طرح نماز پڑھو جو دنیا کو چھوڑ کر جانے والا ہو۔اور اپنی زبان سے ایسی بات نہ نکالو کہ اگر قیامت میں اس کا حساب ہو تو تمہارے پاس کچھ کہنے کے لئے نہ رہ جائے۔اور لوگوں کے پاس جو کچھ مال و اسباب ہے اس سے تم بالکل بے نیاز ہو جاؤ“۔(مشکواۃ کتاب الرقاق الفصل الثالث)