خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 285

خطبات مسرور 285 اگر ہم ان نصائح پر عمل کرنے والے ہوں تو بہت سی قباحتوں سے بچ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔$2004 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بندے کے اندر خدا کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔اور نہ ہی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حرص جمع ہو سکتے ہیں۔(سنن نسائی کتاب الجهاد باب فضل من عمل في سبيل الله على قدمه) یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیفیں اٹھانے والے کبھی جہنم کو نہیں دیکھیں گے۔ان تک جہنم کا دھواں کبھی نہیں پہنچے گا۔اور جس کے دل میں مضبوط ایمان ہو، پکا ایمان ہو، مومن ہے تو وہ کبھی بھی دنیاوی معاملات میں حریص نہیں ہوسکتا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دلی اطمینان اور جسمانی صحت کے ساتھ صبح کی اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے اس نے گویا ساری دنیا جیت لی۔اور اس کی ساری نعمتیں اسے مل گئیں۔(ترمذی کتاب الزهد باب فی الزهاد فی الدنیا)۔یہ قناعت ہو بھی میسر آ سکتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں: در جس قدر انسان کشمکش سے بچا ہوا ہو اسی قدر اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں، کشمکش والے کے سینہ میں آگ ہوتی ہے اور وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہوتا ہے۔اس دنیا کی زندگی میں بھی یہی آرام ہے کہ کشمکش سے نجات ہوں۔کہتے ہیں ایک شخص گھوڑے پر سوار چلا جاتا تھا راستے میں ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔اس نے لنگوٹ یا جانگیہ پہنا ہوگا۔اس نے اس سے پوچھا کہ سائیں جی! کیا حال ہے؟۔فقیر نے اسے جواب دیا کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہوگئی ہوں اس کا حال کیا ہوتا ہے۔اس گھوڑ سوار کو تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مراد میں کس طرح پوری ہوگئی ہیں۔