خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 275

$2004 275 خطبات مسرور خدمت دینی بجا نہیں لا سکتے اور چند روز دکھ اٹھا کر اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں ( یعنی وفات ہو جاتی ہے) بلکہ بجائے اس کے کہ بنی نوع کی خدمت کر سکیں اپنی جسمانی ناپاکیوں اور ترک قواعد حفظان صحت سے ( حفظان صحت کے قواعد چھوڑنے سے ) اوروں کے لئے وبال جان ہو جاتے ہیں۔اور آخر ان ناپاکیوں کا ذخیرہ جس کو ہم اپنے ہاتھوں سے اکٹھا کرتے ہیں وبائی صورت میں مشتمل ہو کر تمام ملک کو کھاتا ہے۔اور اس تمام مصیبت کا موجب ہم ہی ہوتے ہیں کیونکہ ہم ظاہری یا کی کے اصولوں کی رعایت نہیں رکھتے۔پس دیکھو کہ قرآنی اصول کو چھوڑ کر اور فرقانی وصایا کو ترک کر کے کیا کچھ بلائیں انسانوں پر وارد ہوتی ہیں۔اور ایسے بے احتیاط لوگ جو نجاستوں سے پر ہیز نہیں کرتے اور عفونتوں کو اپنے گھروں اور کوچوں اور کپڑوں اور مونہوں سے دور نہیں کرتے ان کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے نوع انسان کے لئے کیسے خطرناک نتیجے پیدا ہوتے ہیں اور کیسی یک دفعہ وبائیں پھوٹتی اور موتیں پیدا ہوتی ہیں اور شور قیامت برپا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ مرض کی دہشت سے اپنے گھروں اور مال اور املاک اور تمام جائیداد سے جو جانکا ہی سے اکٹھی کی تھیں دستبردار ہو کر دوسرے ملکوں کی طرف دوڑتے ہیں اور مائیں بچوں سے اور بچے ماؤں سے جدا کئے جاتے ہیں۔کیا یہ مصیبت جہنم کی آگ سے کچھ کم ہے۔ڈاکٹروں سے پوچھو اور طبیبوں سے دریافت کرو کہ کیا ایسی لا پرواہی جو جسمانی طہارت کی نسبت عمل میں لائی جائے وبا کے لئے عین موزوں اور موید ہے یانہیں پس قرآن نے کیا برا کیا کہ پہلے جسموں اور گھروں اور کپڑوں کی صفائی پر زور دے کر انسانوں کو اس جہنم سے بچانا چاہا جو اسی دنیا میں ایک دفعہ فالج کی طرح گرتا اور عدم تک پہنچا تا ہے“۔ايام الصلح صفحه ٩٦،٩٥ ـ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود جلد چهارم صفحه ٤٩٧٤٩٦) اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری اور باطنی صفائی کی طرف توجہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔