خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 271
271 $2004 خطبات مسرور برگر ہوتا ہے ہمیشہ دیکھیں گے بائیں ہاتھ سے کھا رہے ہوں گے۔چپس کا لفافہ دائیں ہاتھ میں ہوگا اور بایاں ہاتھ استعمال ہو رہا ہوگا۔بعض لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں، اس سے بچنا چاہئے۔کھانا بہر حال دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے۔پھر ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس باتیں فطرت انسانی میں داخل ہیں۔مونچھیں تراشنا، ڈاڑھی رکھنا (خاص مردوں کے لئے ہے )، مسواک کرنا پانی سے ناک صاف کرنا، ناخن کٹوانا، انگلیوں کے پورے صاف رکھنا بغلوں کے بال لینا، زیر ناف بال لینا، استنجاء کرنا، طہارت کرنا۔راوی کہتا ہے کہ میں دسویں بات بھول گیا ہوں شاید وہ کھانے کے بعد کلی کرنا ہے۔(مسلم- كتاب الطهارة باب خصال الفطرة) یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو صفائی کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کے اصولوں کے لئے بھی ضروری ہیں۔اب پانی سے ناک صاف کرنے کا جو حکم ہے یہ وضو کرتے وقت دن میں پانچ دفعہ ہے اور اگر ناک میں پانی چڑھا کر صاف کیا جائے تو کافی حد تک نزلے وغیرہ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔مجھے کسی نے بتایا کہ جرمنی میں کسی کو نزلہ ہو گیا اور ڈاکٹر کے پاس گئے تو اس نے کہا کہ تم لوگ جو مسلمان ہو، پانچ وقت وضو کرتے ہو تو ناک میں پانی چڑھاتے ہو تم اگر اس طرح کرو تو کافی حد تک نزلے سے بچ سکتے ہو۔یہ اس ڈاکٹر کی اپنی سوچ یا تحقیق تھی یا اس پر کوئی اور تحقیق ہو رہی ہے یا ہوئی ہے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو بہر حال اس میں حقیقت ہے۔اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ہر ایک کے لئے ناک میں پانی چڑھانا مشکل ہوگا کیونکہ ناک میں زور سے پانی چڑھانا ہوتا ہے۔بعض دفعہ ذراسی تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن میں نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ اگر ناک میں پانی ٹھیک طرح چڑھایا جائے اور صاف کیا جائے تو نزلے میں کافی فرق پڑتا ہے۔پھر ناخن کٹوانا ہے،اس میں ہزار قسم کے گند پھنس جاتے ہیں لیکن آج کل بعض مردوں میں لیکن عورتوں میں تو اکثریت میں یہ فیشن ہو