خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 221

$2004 221 خطبات مسرور سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور کونسی باتیں ہیں جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم عطا فرمایا ہے ہمیں قرآن شریف سیکھنا اور پڑھنا چاہئے۔جن کو قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے وہ دوسروں کو سکھائیں۔قرآن کریم کے درس کو روزانہ جماعتوں میں رواج دیں، چاہے چند منٹ کا ہی ہوتا کہ جو خود پڑھ اور سمجھ نہیں سکتے ان تک بھی یہ خوبصورت تعلیم وضاحت کے ساتھ پہنچ جائے۔تلاوت قرآن کریم تو بہر حال ہر احمدی کو روزانہ ضرور کرنی چاہئے تا کہ قرآن کریم کی برکات نازل ہوں اور دل تقویٰ سے بھرتے چلے جائیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ بھی فرمایا ہے اگر کوئی شخص مومن نہ بھی ہو اور صرف انصاف سے کام لے کر قرآن دیکھے نہ کہ جہالت، حسد اور بخل سے تو یہ بھی تقوی کی ابتدائی شکل ہے تو اگر کوئی شخص انصاف سے قرآن شریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو نور ہدایت دے دیتا ہے۔تو جو ایمان لے آئے ہیں اور تقویٰ کی نظر سے قرآن کریم پڑھتے ہیں ان کے لئے کس طرح ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم ہدایت نہ دے اور تقویٰ پر نہ چلائے۔اگر ایک ایمان لانے والے کے دل میں قرآن کریم پڑھ کر اور سن کر نور ہدایت کا جوش پیدا نہیں ہوتا تو پھر اس کو فکر کرنی چاہئے کہ تقویٰ میں کہیں کمی رہ رہی ہے۔یہ سوچنا چاہئے کہ ہماری بڑائیاں اور ہماری خود پسندیاں ہمیں اصل تعلیم سے دور لے جا رہی ہیں اور ہم میں تقویٰ نہیں ہے۔کیونکہ قرآن کریم نے تو یہ کہہ دیا ہے کہ اس میں متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔اگر ہم قرآن کریم کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے تو یہ ہماری غلطی ہے اور ہمارے لئے یہ فکر کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ تو ہمیں اجر دینے کا وعدہ بھی کرتا ہے بشرطیکہ ہم اس کی تعلیم کے مطابق ہدایت پر قائم ہوں اور نیکیاں بجالانے والے ہوں جیسا کہ وہ فرماتا ہے ﴿وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوْهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِيْنَ﴾ آل عمران : ۱۱۲ ) اور جو نیکی بھی وہ کریں گے تو ہرگز ان سے اس کے بارے میں ناشکری کا سلوک نہیں کیا جائے گا اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے تقویٰ پر قائم رہنے اور نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔اور