خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 183
$2004 183 خطبات مسرور کہہ دیا ہے کہ آپ ہمیں خبر بھجوائیں گے اور مال غنیمت میں سے کچھ حصہ دیں گے اور واپس آ کر میں اس کا قرض چکا دوں گا، آپ نے فرمایا ابھی اس کا حق ادا کرو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات تین دفعہ فرما دیتے تھے تو وہ قطعی فیصلہ سمجھا جاتا تھا، چنانچہ حضرت عبداللہ اسی وقت بازار گئے، انہوں نے ایک چادر بطور تہہ بند کے باندھ رکھی تھی۔سرکا کپڑا اتار کر تہ بند کی جگہ باندھ لیا اور چادر چار درہم میں بیچ کر قرض ادا کر دیا۔اتنے میں ایک بڑھیا وہاں سے گزری ، کہنے لگی اے رسول اللہ کے صحابی یہ آپ کو کیا ہوا ہے، عبداللہ نے سارا قصہ ان کو سنایا اس نے اسی وقت جو اپنی چادر جوڑ رکھی تھی ان کو دے دی۔اور یوں ان کا قرض بھی اتر گیا اور ان کی چادر بھی ان کومل گئی۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ٤٢۳ ـ مطبوعه بيروت) اس صحابی کی دیکھیں قرض ادا کرنے کی حالت بھی نہیں تھی۔اس کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا چاہے اپنے تن کے کپڑے بھی بیچ کر قرض ادا کر و قرض بہر حال ادا کرنا ہے۔تبھی حق اور انصاف قائم ہوسکتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عدل کی حالت یہ ہے کہ جو متقی کی حالت نفس امارہ کی صورت میں ہوتی ہے۔اس حالت کی اصلاح کے لئے عدل کا حکم ہے، اس میں نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں یہی خواہش کرتا ہے کسی طرح سے اسے دبالوں اور اتفاق سے اس کی میعاد بھی گزر جائے اس صورت میں نفس اور بھی دلیر اور بے باک ہو گا کہ اب تو قانونی طور پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو سکتا مگر یہ ٹھیک نہیں۔عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا دین واجب ادا کیا جاوے، یعنی اس کا قرض واپس ادا کیا جائے اور کسی حیلے اور عذر سے اس کو دبایا نہ جائے، فرمایا مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پرواہ نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں بہت کم توجہ کرتے ہیں، یہ عدل کے خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے یعنی جنازہ نہ پڑھتے