خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 12
$2004 12 خطبات مسرور مُحَمَّدٍ وَعَلَى ال مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكْ وَسَلَّمْ۔تو یہ ہے وہ نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا اور یہ بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گردو پیش حاضر رہتے ہیں۔فرمایا اس لئے اگر کسی کے انکسارا اور فروتنی اور تحمل اور برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے بعض مر دیا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمت گار سے ذرا کوئی کام بگڑا۔مثلاً چائے میں نقص ہوا تو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کر دیا اور ذرا شور بے میں نمک زیادہ ہو گیا تو بس بیچارے خدمت گاروں پر آفت آئی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۴۳۷ ، ۱۳۴۸الحکم، ارنومبر ۱۹۰۵) ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ ایک کم سن لونڈی کو بازار میں روتے دیکھا جو گھر کے مالکوں کا آٹا پینے کی تھی مگر در ہم گم کر بیٹھی۔آپ نے اسے درہم بھی مہیا کئے اور اس کے صلى الله مالکوں کے گھر جا کر سفارش بھی کی۔اس بات پر کہ آنحضرت ﷺ سفارش کرنے کے لئے آئے ہیں مالکوں نے اس کو آزاد بھی کر دیا۔(مجمع الزوائد از علامه هیثمی جلد ۹ صفحه ۴۱ مطبوعه بیروت) حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور ایک مجلس میں اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے۔مدینہ کی ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا، ذرا پاگل پن تھا تھوڑا۔تو حضور کے پاس آئی اور عرض کیا کہ مجھے آپ سے کچھ کام ہے لیکن میں آپ سے ان لوگوں کے سامنے باتیں نہیں کروں گی۔علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہوں۔حضور نے فرمایا ٹھیک ہے جہاں بھی مدینہ کے راستوں میں سے جس رستہ پہ چاہو یا سڑک پر چاہو یا جو بیٹھنے کی جگہیں ہیں وہاں چاہو مجھے بتادو میں وہاں جا کر بیٹھتا ہوں اور تم بات کرو اور میں تمہاری بات سنوں گا۔اور فرمایا جب تک تیری بات سن کر تیری ضرورت پوری نہ کر دوں وہاں سے نہیں ہٹوں گا۔حضرت انس کہتے ہیں حضور کی بات سن کر وہ حضور کو ایک راستہ پر لے گئی پھر وہاں جا کر بیٹھ گئی حضور بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور جب تک اس کی بات سن کر اس کا کام نہیں کر دیا حضور وہیں بیٹھے رہے۔(الشفا لقاضی عیاض باب تواضعه صفحه ۱۹۲) تو اس زمانہ میں یہی مثال یہی اسوہ ہمیں آپ کے عاشق صادق اور غلام حضرت اقدس مسیح