خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 958
$2004 958 مسرور یعنی دینی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔تو آنحضرت نے یہ حکم واضح طور پر دے دیا کہ اگر کوئی اس قسم کے بھی لوگ ہوں جو اتنا تنگ کر دیں کہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجنے لگ جاؤ تب بھی ان سے بغاوت نہیں کرنی۔اللہ نہ کرے کہ کبھی جماعت کی یہ صورتحال ہو۔لیکن یہ ایک انتہائی مثال ہے ایسی صورتحال ہو بھی جائے جیسا کہ بتایا گیا ہے تب بھی تم نے فرمانبرداری دکھانی ہے۔دعا کرتے رہیں اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے جماعت اور نظام جماعت کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔اگر افراد جماعت بھی اور عہدیدار بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، جماعتی وقار کی خاطر ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر اپنے خاص فضلوں کی بارش برسا تارہے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں میں انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں گا۔پس آج یہ ہر احمدی کا کام ہے کہ خدا کی عظمت اور جلال کو قائم کرے اور اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے پیار و محبت شفقت اور فرمانبرداری کے نمونے دکھائے۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت میں جگہ پائے۔اللہ تعالیٰ اس کی سب کو تو فیق عطا فرمائے۔آمین جماعت کی جب ترقی ہوتی ہے تو حاسدوں کے حسد بھی بڑھ جاتے ہیں۔وہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف حیلوں بہانوں سے جماعت میں بے چینی پیدا ہو، ہمدرد بن کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ لوگ مخالفین کے آلہ کار بنے ہوئے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ کسی عہد یدار کے متعلق کوئی بات کر کے بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بعض دفعہ فرد جماعت کے دل میں کسی عہدیدار کے خلاف بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض دفعہ مرکزی عہدیداران کے خلاف بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ مجھے ایسے خط لکھ دیں گے اور عموماً ایسے خط بغیر نام اور پتے کے ہوتے ہیں کہ گویا جماعت میں اخلاص و وفا کے نمونے نہیں رہے، نعوذ باللہ تمام عہد یدار