خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 952
$2004 952 خطبات مسرور چاہئے جس طرح جماعت کے حق میں بہترین ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو۔اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کو بد کا یا نہ کرو۔(صحیح البخاری کتاب العلم باب ما كان النبي يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا) تو اصولی قواعد بھی اس لئے ہیں کہ صحیح سمت میں چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں پر پر چلتے ہوئے لوگوں کے لئے بہتری اور آسانی پیدا کی جائے۔تمہاری ضدیں، تمہاری قسمیں تمہاری انا ئیں کبھی بھی کسی بات میں حائل نہ ہوں جس سے لوگ تنگ ہوں۔اگر کوئی قاعدہ بن بھی گیا ہے یا کوئی فیصلہ ہو بھی گیا ہے اگر اس سے لوگ تنگ ہو رہے ہیں تو بدلا جا سکتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ لوگ ہمیشہ تمہارے پاس خوشی کی خبروں اور محبت اور پیار کے پیغاموں کے لئے اکٹھے ہوا کریں۔نہ کہ تنگ ہونے کے لئے دور بھاگتے چلے جائیں۔پھر دنیا میں ہر جگہ جماعتی عہدیداروں کی ایک یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مبلغین یا جتنے واقفین زندگی ہیں ان کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کیا جائے اور لوگوں کے دلوں میں بھی۔ان کی عزت کرنا اور کروانا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، حسب گنجائش اور توفیق ان کے لئے سہولتیں مہیا کرنا، یہ جماعت کا اور عہدیداران کا کام ہے تاکہ ان کے کام میں یکسوئی رہے۔وہ اپنے کام کو بہتر طریقے سے کر سکیں۔وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔اگر مربیان کو عزت کا مقام نہیں دیں گے تو آئندہ نسلوں میں پھر آپ کو واقفین زندگی اور مربیان تلاش کرنے بھی مشکل ہو جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ واقفین نو کی تحریک کے تحت بہت سے واقفین نو بچے وقف کے میدان میں آ رہے ہیں۔لیکن جتنا جائزہ میں نے لیا ہے میرے خیال میں جتنے مبلغین کی ضرورت ہے اتنے اس میدان میں نہیں آ رہے دوسری فیلڈز (Fields) میں جا رہے ہیں۔بہر حال جب مربی کو مقام دیا جائے گا، گھروں میں ان کا نام عزت واحترام سے لیا جائے گا، ان کی خدمات کو سراہا جائے گا تو یقیناً ان ذکروں سے