خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 951
$2004 951 مسرور پس لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کریں، اپنے بھائیوں سے، بہنوں سے اس لئے پیار اور محبت کا سلوک کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اس کا محبوب بننا ہے۔اور یا درکھیں امراء بھی ، صدران بھی اور عہدیداران بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران بھی کہ وہ خلیفہ وقت کے مقرر کردہ انتظامی نظام کا ایک حصہ ہیں اور اس لحاظ سے خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔اس لئے ان کی سوچ اپنے کاموں کو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لئے اسی طرح چلنی چاہئے جس طرح خلیفہ وقت کی۔اور انہیں ہدایات پر عمل ہونا چاہئے جو مرکزی طور پر دی جاتی ہیں۔اگر اس طرح نہیں کرتے تو پھر اپنے عہدے کا حق ادا نہیں کر رہے۔جو اس کے انصاف کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں کر رہے۔پھر عہدے کی خواہش کرنا ہے پہلے بھی میں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو جماعت میں بڑی معیوب سمجھی جاتی ہے اور ہر اس شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو اس بارے میں کوشش کرتا ہے۔اس بارے میں ایک حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن سمرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے عبدالرحمن ! تو امارت اور حکومت نہ مانگ۔اگر تجھے بغیر مانگے یہ عہدہ ملے تو اس ذمہ داری کے بارے میں تیری مدد کی جائے گی۔یعنی خواہش نہ ہو اور پھر عہدہ مل جائے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا ہے اور اپنے بندے کی مدد کرتا ہے۔اور اگر تیرے مانگنے پر تجھے یہ عہدہ دیا گیا ہے تو تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوگا۔ذراسی بھی غلطی ہوگی تو پکڑ بہت زیادہ ہوگی۔اور جب تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق قسم کھائے اور پھر اس قسم سے برعکس تجھے بہتر بات نظر آئے تو وہ بہتر بات کر اور اپنی قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے۔(بخاری کتاب الاحکام )۔یہی ہے کہ عہدیداران کو بھی بعض دفعہ قسم تو نہیں کھاتے لیکن بعض ضد میں ہوتی ہیں کہ یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہئے تو اگر جماعت کے مفاد میں ہو تو پھر تمہاری ضدیں یا تمہاری قسمیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ان کو ختم کرو۔یہ جماعت کے مفاد میں حائل نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اس طرح کام ہونا