خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 935
$2004 935 خطبات مسرور بہت سی حرکات و عادات ظاہر ہو جاتی ہیں۔اور اگر کوئی بات ناپسندیدہ لگے تو بہتر ہے کہ پہلے پتہ لگ جائے اور بعد میں جھگڑے نہ ہوں۔اور اگر اچھی باتیں ہیں تو موافقت اور الفت اس رشتے کے ساتھ اور بھی پیدا ہو جاتی ہے۔یا رشتے کے پیغام کے ساتھ۔تو ایک تعلق شادی سے پہلے ہو جائے گا۔دوسرے لوگ بعض دفعہ ان کا کردار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کا رشتہ ہو گیا ہے تو اس کو تڑ وانے کی کوشش کریں۔ان کو آمنے سامنے ملنے سے موقع نہیں ملے گا۔ایک دوسرے کی حرکات دیکھنے سے کیونکہ ایک دوسرے کو جانتے ہوں گے۔لیکن بعض لوگ دوسری طرف بھی انتہا کو چلے گئے ہیں ان کو یہ بھی برداشت نہیں کہ لڑکا لڑکی شادی سے پہلے یا پیغام کے وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ بھی سکیں اس کو غیرت کا نام دیا جاتا ہے۔تو اسلام کی تعلیم ایک سموئی ہو ئی تعلیم ہے۔نہ افراط نہ تفریط۔نہ ایک انتہا نہ دوسری انتہا۔اور اسی پر عمل ہونا چاہئے۔اسی سے معاشرہ امن میں رہے گا اور معاشرے سے فساد دور ہوگا۔پھر ایک روایت ہے حضرت معقل بن بیمار بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسی عورتوں سے شادی کرو جو محبت کرنا جانتی ہوں اور جن سے زیادہ اولاد پیدا ہوتا کہ میں کثرت افراد کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فخر کر سکوں۔(ابو داؤد كتاب النكاح باب النهي عن تزويج من لم يلد من النساء) تو زیادہ بچوں والی عورت کو آپ نے یہ بھی مقام دیا کہ ان کا بچوں کی کثرت کی وجہ سے ایک مقام ہے۔کیونکہ یہ میری امت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔یہاں آپ کی مراد صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی بڑھا لو، افراد زیادہ ہو جائیں۔بلکہ ایسی اولا د ہو جو نیکیوں میں بڑھنے والی بھی ہو۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی بھی ہو تبھی وہ آپ کے لئے باعث فخر ہے۔پس اس میں عورتوں پر یہ ذمہ داری بھی ڈالی ہے کہ صرف اولاد پر فخر نہ کریں بلکہ نیکیوں پر چلنے والی اولا د بنانے کی کوشش کریں۔جو آپ کی امت کہلانے میں فخر محسوس کرے اور آپ سجس طرح فرما رہے ہیں کہ مجھے بھی ان عورتوں پر فخر ہوگا جن کی اولاد میں زیادہ ہوں گی اور نیکیوں پر قائم بھی ہوں گی۔