خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 924 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 924

خطبات مسرور $2004 924 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا وَانْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ۔وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔(سورة النور آیت 33 ) آجکل شادی بیاہ کے بہت سے مسائل سامنے آتے ہیں۔روزانہ خطوں میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔لڑکیوں کی طرف سے عورتوں کی طرف سے بچیوں کے رشتوں کے مسائل ہیں۔جو کم مالی حیثیت رکھنے والے ہیں ان کے رشتوں کے مسائل ہیں لڑکا ہو یا لڑکی۔بیواؤں کے رشتوں کے مسائل ہیں۔ایسی بعض بیوائیں ہوتی ہیں جو شادی کی عمر کے قابل ہوتی ہیں یا بعض ایسی جو اپنے تحفظ کے لئے شادی کروانا چاہتی ہیں ان کے رشتوں کے مسائل ہیں۔لیکن ایسی بیوائیں بعض دفعہ معاشرے کی نظروں کی وجہ سے ڈر جاتی ہیں اور باوجود یہ سمجھنے کے کہ ہمیں شادی کی ضرورت ہے، وہ شادی نہیں کرواتیں۔تو بہر حال مختلف طبقوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں ہمارے بعض مشرقی ممالک میں ، بیواؤں کے ضمن میں بات کروں گا، اس بات کو بہت برا سمجھا جاتا ہے بلکہ گناہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت اگر بیوہ ہو جائے تو دوسری شادی کرے۔اور بعض بیچاری عورتیں جو اپنے حالات کی وجہ سے شادی کرنا چاہتی ہیں ان کے بعض دفعہ رشتے بھی طے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے عزیز رشتہ دار اس بات کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔اور اس طرح ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور بیچاری عورت کو اتنا عاجز کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے ہی بیزار ہو جاتی ہے۔