خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 919 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 919

919 $2004 خطبات مسرور نے عاجزی کے اور غریبوں کا خیال رکھنے کے جو معیار قائم کئے ہیں اب وہ ہم دیکھتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک کی چھت پہ بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ لوگ ساتھ تھے۔اور کھانے کے لئے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک احمدی میاں نظام الدین ساکن لدھیانہ جو بہت غریب تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے، بری حالت میں تھے، حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلے پر بیٹھے تھے کہتے ہیں کہ اتنے میں کئی اور لوگ آتے گئے اور وہ لوگ جو بعد میں جماعت کو چھوڑ بھی گئے تھے یا پیغامی ہو گئے تھے ان میں سے اکثر تھے۔حضور کے قریب بیٹھتے گئے جس کی وجہ سے میاں نظام دین پرے ہٹتے چلے گئے یہاں تک کہ وہ پیچھے جو تیوں میں جا کے بیٹھ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک سالن کا پیالہ لیا کچھ روٹیاں لیں اور میاں نظام الدین کو کہا کہ آؤ ہم اندر بیٹھ کر کھانا کھا ئیں اور جومسجد کے ساتھ چھوٹا کمرہ تھا اس میں چلے گئے اور وہاں بیٹھ کے ان کے ساتھ کھانا کھایا اور اس وقت حضرت منشی ظفر احمد صاحب جو روایت بیان کرنے والے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جولوگ ان کو پیچھے ہٹاتے چلے جارہے تھے ان لوگوں کے چہروں کی حالت اور شرمندگی سے ان کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔روایات حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی صفحه 99-100 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خادموں میں سے ایک پیرا پہاڑ یہ تھا۔مزدور آدمی تھا جو پہاڑی علاقے سے آیا ہوا تھا۔بالکل جاہل اور اجڈ آدمی تھا۔لیکن بہت سی غلطیاں کرنے کے باوجود کبھی یہ نہیں ہوا کہ حضرت مسیح موعود نے کبھی اسے جھڑ کا ہو۔ایک دفعہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اچانک بیمار ہو گئے گرمی کا موسم ہونے کے باوجود ایک دم ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو گئے اور مسجد کی چھت پر ہی مغرب کی نماز کے بیٹھے ہوئے تھے تو اس وقت جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان کو فوراً فکر ہوئی ، تدبیریں ہونی شروع ہوئیں کہ کیا کرنا ہے۔یہی جو پیرا تھا ، ان کو بھی خبر پہنچی ، وہ گارے مٹی کا کوئی کام کر رہے تھے، یہ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اندر آگئے اور یہ نہیں دیکھا