خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 918
$2004 918 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں : ” اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں نا جائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔عُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے“۔یعنی غرور تکبر وغیرہ سب غصے سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے“۔اور اگر دل میں تکبر وغیرہ ہوتو پھر بھی ہر ایک کو غصہ ہوتا ہے اپنے آپ کو آدمی بڑا سمجھتا ہے۔چھوٹے پر غصہ اتارنا شروع کر دیتا ہے۔” کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں، کسی کو کم نظر سے دیکھیں۔”خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے اس کی دلجوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الْإِسْمُ الْفُسُوْقِ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ﴾ (الحجرات : 12) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فستاق وفجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑا تا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے گل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (الحجرات: 14)“۔(ملفوظات جلد اول صفحه 2232232 رپورٹ جلسه سالانه 1897) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام