خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 915 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 915

$2004 915 خطبات مسرور پھر دیکھیں وہ بظاہر ان پڑھ بدوی تھا لیکن آپ کے نور سے منور ہونے کے بعد آپ کی تعلیم سے حصہ پانے کے بعد اس کی عقل میں بھی تیزی آ گئی اور کہاں تک پہنچ گئی۔اس نے یہ پہچان لیا کہ یہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اس لئے فوراً اپنا جسم آپ کے جسم سے رگڑنا شروع کر دیا کہ آج جتنی برکتیں سمیٹنی ہیں سمیٹ لو۔ذرا تصور کریں اس وقت بازار میں کھڑے بڑے بڑے لوگ بھی کس حسرت سے اس دیہاتی آدمی کو دیکھ رہے ہوں گے کہ کاش اس وقت یہ برکتیں ہم حاصل کر رہے ہوتے۔پھر آپ کی غریب لوگوں سے بردباری کی ایک مثال ہے۔یہ شروع کی بات ہی ہو گی دیہات والوں کو اسلام کی تعلیم کا پورا علم نہیں تھا، فہم و ادراک نہیں تھا تو بعض دفعہ بعض غلط حرکتیں بھی کر جایا کرتے تھے۔تو صحابہ کو جو شہر کے رہنے والے تھے ان کی لمبا عرصہ تربیت ہو گئی تھی ان کو ان باتوں پر غصہ بھی آیا کرتا تھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایسے معاملے میں بڑی نرم دلی سے اور بردباری سے یہ مسئلہ حل کر دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک بدوی مسجد کے ایک پہلو میں آیا اور مسجد کے سائیڈ پر ہو کے اس نے پیشاب کر دیا۔اس پر لوگوں نے اس پر چلا نا شروع کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا اسے چھوڑ دو۔پھر جب وہ فارغ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ ڈول کچھ بالٹیاں پانی کی منگوائیں اور اس جگہ پانی بہایا گیا۔تا کہ جگہ صاف ہو جائے۔(مسلم) كتاب الطهارة باب وجوب غسل البول) - تو دیکھیں آپ نے اسے اس حالت میں روکنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔لیکن فورا ہی اپنے عمل سے لوگوں کو بھی کہہ دیا آرام سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور اس کو بھی سمجھا دیا کہ مسجد ایسی جگہ نہیں جہاں گند کیا جائے۔یہ ہمیشہ پاک صاف رہنے والی جگہ ہے اور فور پانی بہا کر اس کے سامنے اسے صاف کر دیا۔تو یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کی ، آپ کے حسن سلوک کی، جو معاشرے کے کمزور طبقے کے ساتھ آپ کا تھا۔یہ نمونے جو آپ نے قائم کئے ہیں یہ اس