خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 908
908 $2004 خطبات مسرور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نہیں پہچانا تو اس کو سوائے عقل کا اندھا ہونے کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور عین اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق فرمایا کہ صفات کے لحاظ سے بھی اور قول اور فعل اور عمل اور سب طاقتوں کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہی ہے جس کی پیروی کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔اور وہی اعلیٰ معیار ہیں جن سے بڑھ کر کوئی اور معیار نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا بھی انسانی طاقت کے لحاظ سے اگر کسی انسان سے اعلیٰ ترین اظہار ہو سکتا ہے، تو وہ بھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی اسے اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے۔اور اس میں یہ اہلیت اور استعداد رکھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظلی طور پر اپنا سکے۔تو جیسا کہ میں نے کہا، سب سے اعلیٰ معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔یہ اہلیت اور استعداد سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھی ہے۔اور اگر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا کامل نمونہ دکھا سکتا ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔یعنی میں اچھے اور اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔تو تکمیل وہی کرتا ہے جو خودان صفات اور اخلاق میں مکمل ہو۔پس اس کامل انسان کی امت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان اخلاق کو اختیار کر کے آپ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرے۔اور آج یہ فرض سب سے بڑھ کر جماعت احمدیہ کے ہر فرد پر عائد ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خُلق جو کمزوروں اور مسکینوں کے بارے میں ہے،اس میں سے چند روایات پیش کروں گا۔وہ یہ ہیں جن سے آپ کے دل میں اس مجبور اور کمزور طبقے کی