خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 907
$2004 907 خطبات مسرور ایک دن مقرر ہے جہاں اس کا حساب کتاب ہوگا اور اس کی تیاری کے لئے وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے تو اس کو پھر ان راستوں پر چلنا ہو گا جن پر آنحضرت ﷺ نے ہمیں چل کر دکھایا ہے۔تبھی اللہ تمہاری ان دعاؤں اور اس کا قرب پانے کی امیدوں پر بھی نظر کرے گا۔اس لئے ان راستوں کو بھی تلاش کرو۔ان کی تلاش میں رہا کرو کہ وہ کون کون سے راستے ہیں جن پر اللہ کا یہ پیارا نبی چلا کرتا تھا۔آنحضرت ﷺ کا جو بلند مقام ہے، جو اعلیٰ نمونے آپ نے قائم کئے ہیں ان کو تو کبھی بھی مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ان نمونوں پر چلنے کی کچھ مثالیں عموماً پیش کی جاتی ہیں۔ان میں سے چند مثالیں اس وقت میں لوں گا۔لیکن ان مثالوں میں بھی صرف ایک خلق کے بارے میں میں اس وقت بیان کروں گا کہ کمزوروں اور بےسہاروں سے آپ کا کیسا سلوک ہوا کرتا تھا۔لیکن جو باتیں، جیسا کہ میں نے کہا ہے، روایات کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں شاید اصل کا کروڑواں حصہ بھی نہ ہوں۔لیکن بہر حال چند روایات میں پیش کرتا ہوں۔لیکن اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کروں گا۔کیونکہ آپ ہی ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے،اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ عِلْمًا وَ عَمَلًا، صِدْقًا وَ ثَبَاتًا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر انبين جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اتمام الحجة، روحانی خزائن جلد 8 صفحه 308 ) تو دیکھیں یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام۔کس خوبصورتی سے اپنے آقا کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔اس کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام