خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 4
خطبات مسرور $2004 4 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَّإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُوْنَ قَالُوْا سَلمًا ﴾ (سورة الفرقان آیت ۶۴) عاجزی اور انکساری ایک ایسا خلق ہے جب کسی انسان میں پیدا ہو جائے تو اس کے ماحول میں اور اس سے تعلق رکھنے والوں میں باوجود مذہبی اختلاف کے جس شخص میں یہ خلق ہو اس پر انگلی اٹھانے کا موقعہ نہیں ملتا بلکہ اس خُلق کی وجہ سے لوگ اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، اس سے تعلق رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ہمیں تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ عاجزی اگر کسی میں نظر آتی ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہے چنانچہ دیکھ لیں باوجود خاتم الانبیاء ہونے کے آپ اپنے ماننے والوں کو یہی فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو اور اس یہودی کو بھی پتہ تھا کہ باوجود اس کے کہ میں یہودی ہوں اور جھگڑا میرا مسلمان سے ہے اور پھر معاملہ بھی آپ ﷺ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اپنے اس جھگڑے کا معاملہ آپ ﷺ کے پاس ہی لاتا ہے، آپ کی خدمت میں ہی پیش کرتا ہے۔کیونکہ مذہبی اختلاف کے باوجود اس کو یہ یقین تھا اور وہ اس یقین پر قائم تھا کہ یہ عاجز انسان کبھی اپنی بڑائی ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور اس یہودی کو یہ بھی یقین تھا کہ میرا دل رکھنے کے لئے اپنے مرید کو یہی کہیں گے کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔یہ یقین اس لئے قائم تھا کہ آپ کی زندگی جو زندگی اس یہودی کے سامنے تھی اس سے یہی ثابت ہوا تھا اور آپ کا یہ حسن خلق اس کو پتہ تھا اور یہ حسن خلق آپ میں اس لئے تھا کہ وہ شرعی کتاب جو آپ پر اتری یعنی قرآن کریم اس میں اللہ