خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 891 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 891

$2004 891 مسرور پس یہ ہے وہ غیرت جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں تھی اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت اور آپ کی محبت کے وہ معیار ہیں جو آپ اپنی جماعت کے ہر فرد میں دیکھنا چاہتے تھے۔اور اس تعلیم کا ہی اثر ہے کہ یہ محبت جماعت کے دلوں میں پیدا ہوئی اور پھر جماعت اس محبت کے زیر اثر ہی آج دنیا کے کونے کونے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچانے کے لئے کوشاں ہے اور آج دنیا کے کونے کونے میں اس غیرت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام جماعت کے ذریعہ پہنچایا جارہا ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ پہنچایا جاتا رہے گا۔یہ پیغام پہنچانے کے طریق اور دنیا کو چیلنج دینے کی جرات جیسے کہ میں پہلے بھی کہہ چک ہوں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے۔آپ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ جو عشق تھا اور آپ کے لئے جو غیرت تھی اس کا اظہار اس سے پہلے کے اقتباس سے ہو چکا ہے جو الفاظ میں نے پڑھے ہیں۔آپ نے دنیا کو واضح الفاظ میں یہ چیلنج دیا ہے کہ تمہارا جو کچھ بھی مذہب ہو، تمہاری جتنی بھی طاقت اور وسائل ہوں تم جتنا مرضی ہنسی ٹھٹھا کرلو لیکن یا درکھو کہ اب دنیا میں غالب آنے والا مذ ہب صرف اور صرف اسلام ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ”اے تمام وہ لوگ جو زمین پر رہتے ہو اور اے تمام وہ انسانی روحو! جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذ ہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خدا ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اور جلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملا ہے کہ اس کی پیروی اور محبت سے ہم روح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔(ترياق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحه (141) لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج اس مسیح محمدی کی جماعت زندہ خدا اور زندہ مذہب اور