خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 875 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 875

$2004 875 خطبات مسرور بھی حق نہیں ہونا چاہئے ، اور عبادت بھی جو مرضی کرے جو نہ کرے، چھوٹ ہونی چاہئے۔چھوٹ تو ہے لیکن بہر حال پھر مالک ہونے کی حیثیت سے اس کو سزا کا بھی حق ہے اس کو پکڑ کا بھی حق ہے۔اس پر اعتراض ہو جاتا ہے کہ انسان کو عبادت کے لئے پیدا کرنے کا جو اصول بنایا ہے یہ بڑا غلط ہے اللہ تعالیٰ اپنی عبادت زبر دستی کروانا چاہتا ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ تو یہ سب کچھ کروا کر انعامات سے نواز رہا ہے۔جابر حکمران کی طرح یہ نہیں کہہ رہا کہ بس ہر صورت میں یہ کرو جس طرح بیگار لی جاتی ہے۔بلکہ نہ صرف انعامات سے نوازتا ہے جہاں آسانی کی ضرورت ہے عبادتوں میں آسانی بھی پیدا فرماتا ہے۔جیسا کہ سفر میں ، بیماری میں کافی سہولتیں مہیا ہیں۔روزے دار کے لئے بھی نماز پڑھنے والے کے لئے بھی۔تو اس پر تو بجائے زبردستی کا تصور قائم کرنے کے انسان جتنا سوچے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تصور ابھرتا ہے۔اور پھر اس کی حمد اور اس کی عبادت کی طرف مزید توجہ پیدا ہوتی ہے۔لیکن اگر پھر بھی کوئی یہی رٹ لگائے رکھتا ہے کہ عبادت بڑی مشکل ہے اور عبادت کس لئے کی جاتی ہے، اور عبادت کی طرف نہیں آتا اور بے عقلوں کی طرح صرف دلیلیں دیئے چلا جاتا ہے اور وہ بھی اوٹ پٹانگ دلیلیں۔تو اللہ تعالیٰ جس نے نواز نے کے لئے بندے کو عبادت کا حکم دیا ہے، بندے کے اپنے فائدے کے لئے عبادت کا حکم دیا ہے فرماتا ہے کہ اگر تم پھر بھی نہیں مانتے ، انکار پر مصر ہو، اس پہ اصرار کئے جارہے ہو تو پھر خدا کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔اسے کوئی شوق نہیں ہے کہ تمہارے جیسے نافرمان اپنے اردگر دا اکٹھا کرے۔جیسا کہ فرماتا ہے ﴿ قُلْ مَايَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا﴾ (سورة الفرقان آیت : 78) تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔پس تم اسے جھٹلا چکے ہو، ضرور اس کا وبال تم سے چمٹ جانے والا ہے۔پس واضح ہو گیا کہ دعاؤں اور عبادت کی اللہ کو ضرورت نہیں ہے بلکہ تمہیں ضرورت ہے۔پس اگر تم انکار پر تلے بیٹھے ہو تو خدا تعالیٰ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے۔اب سزا کے لئے تیار ہو