خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 867
$2004 867 خطبات مسرور إِلَّا مَا شَاءَ اللہ عموماً احمدی یہ تو ہو سکتا ہے کہ عبادت میں نمازوں میں ستی کر جائیں لیکن اس قسم کے نظریات نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کروانے کی کیا ضرورت تھی۔یا یہ زمانہ جو سائنس کا اور مشینی زمانہ ہے اس میں اس طرح عبادات نہیں ہو سکتیں، پابندیاں نہیں ہوسکتیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ عموماً تو نہیں ہوتے لیکن اگر چند ایک بھی ایسے احمدی ہوں جن کا جماعت سے اتنا زیادہ تعلق نہ ہو۔تعلق سے میری مراد ہے جماعتی پروگراموں میں حصہ نہ لیتے ہوں یا جلسوں وغیرہ پر نہ آتے ہوں یا جن کا دینی علم نہ ہو، ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑا پڑھا لکھا بھی سمجھتے ہیں، یہ لوگ ایسی باتیں کر جاتے ہیں۔اپنے ماحول میں اس قسم کی باتوں سے برائی کا بیج بو سکتے ہیں۔یا بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ جو لا مذہب قسم کے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی ماحول پر اثر انداز ہور ہے ہوتے ہیں۔اور کیونکہ برائی کے جال میں انسان بڑی جلدی پھنستا ہے اس لئے بہر حال فکر بھی پیدا ہوتی ہے کہ ایسے مغربی معاشرے میں جہاں مادیت زیادہ ہو، اس قسم کی باتیں کہیں اور وں کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔اس وجہ سے میں نے اس موضوع کو لیا ہے۔لیکن کچھ کہنے سے پہلے ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے ماحول میں جائزہ لیتے رہیں۔عموماً جو احمدی کہلانے والے ہیں عموماً ان تک ان کی پہنچ ہونی چاہئے۔جو نو جوان دُور ہٹے ہوتے ہیں ان کو قریب لانا چاہئے تا کہ اس قسم کی ذہنیت یا اس قسم کی باتیں ان کے ذہنوں سے نکلیں۔میں نے ابھی جس آیت کی تلاوت کی ہے اور اس کا ترجمہ بھی آپ نے سن لیا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح طور پر یہی فرمایا ہے کہ میں نے جن وانس کو عبادت کی غرض سے پیدا کیا ہے۔لیکن یہاں پابندی نہیں ہے کہ جو بھی اللہ تعالیٰ نے جن وانس کی مخلوق پیدا کی ہے وہ ضرور پیدائش کے وقت سے ہی اپنے ماحول میں بڑے ہوں تو ضرور عبادت کرنے والے ہوں۔ماحول کا اثر لینے کی ان کو اجازت دی گئی ہے۔باوجود اس کے کہ پیدائش کا مقصد یہی ہے کہ عبادت کرنے والا ہو اور