خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 856
$2004 856 خطبات مسرور دعاؤں کی طرف توجہ دیں کیونکہ بعض لوگ صرف صدقہ کر دیتے ہیں وہ ان کو آسان لگتا ہے، نمازوں اور دعاؤں کی طرف توجہ کم ہوتی ہے، دونوں چیزیں اگر ملائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل بہت تیزی سے فرماتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض لوگ صدقہ و خیرات تو کر دیتے ہیں لیکن یہ ایک حصہ ہے اس حکم کا۔ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ مالک ہے، وہ اپنے بندے کو کسی بھی طرح نواز سکتا ہے، بخش سکتا ہے لیکن یہ بھی اس کا حکم ہے کہ میرے سارے احکام پر عمل کرتے ہوئے میرے سامنے جھکو اور میرے سے دعا مانگو کیوں کہ میں لوگوں کی دعائیں سنتا ہوں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ (البقرة 187) کہ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔لیکن بندے کا بھی یہ کام ہے کہ اس پکار کے ساتھ اُس طرح کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَلْيَسْتَجِيْبُوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي ﴾ (البقرة 187) چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ﴾ (البقرة 187) کہ وہ ہدایت پا جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ سے اس دعا کے رابطے کو قائم رکھنے کے لئے ، اور ہدایت پر قائم رہنے کے لئے ، اس کے فضلوں کو ہمیشہ سمیٹنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جب اس طرح دعاؤں کے ساتھ احکامات پر عمل کرتے ہوئے ،صدقہ و خیرات پیش کر رہے ہوں گے، چندے دے رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق ہماری دعائیں سنے گا بھی اور ان قربانیوں کو قبول بھی فرمائے گا۔لیکن بعض لوگوں کا یہ خیال بھی ہوتا ہے۔میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ خود تو بعض لوگوں کی دعاؤں کی طرف توجہ نہیں ہوتی ، ایسے بھی کچھ ہوتے ہیں۔باقی احکامات بھی کبھی مانیں یا نہ مانیں ، صدقہ و خیرات یا چندوں وغیرہ کی ادائیگی بھی کبھی کی تو بڑی بے دلی سے کی۔لیکن مشکل کے وقت بزرگوں کو یا خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھ کر پھر یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا یہ کام اب ضرور ہو جانا