خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 855 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 855

855 $2004 خطبات مسرور امر متفق ہے کہ صدقہ خیرات کے ساتھ بلائل جاتی ہے۔اور بلا کے آنے کے متعلق اگر خدا تعالیٰ پہلے سے خبر دے تو وہ وعید کی پیشگوئی ہے۔پس صدقہ و خیرات سے اور تو بہ کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے وعید کی پیشگوئی بھی ٹل سکتی ہے۔یعنی جو انبیاء کی طرف سے ایسی پیشگوئیاں ہوں جن میں انذار بھی ہو وہ بھی ٹل جاتی ہیں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس بات کے قائل ہیں کہ صدقات سے بلائل جاتی ہے۔ہندو بھی مصیبت کے وقت صدقہ و خیرات دیتے ہیں ، یعنی جن کا اللہ تعالی پر اتنا یقین نہیں بھی ہے وہ بھی دیتے ہیں۔اگر بلا ایسی شے ہے کہ وہ ٹل نہیں سکتی تو پھر صدقہ خیرات سب عبث ہو جاتے ہیں“۔(ملفوظات جلد 5 صفحه 176-177 بدر 21 مارچ (1907) | یہاں آپ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ صدقہ و خیرات سے مشکلیں دور ہوتی ہیں۔تو تو بہ، دعاء صدقہ و خیرات سے، جیسا کہ میں نے کہا، مشکلات دور ہوتی ہیں۔بلکہ فرمایا کہ اگر انبیاء کی طرف سے بھی کسی قوم کا حال دیکھ کر اس کی بربادی کی پیشگوئی کی جائے ،اس کو انذار کیا جائے تو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہوتی ہے جو آگے نبی پہنچاتا ہے اگر قوم دعا اور صدقہ و خیرات کرے یا اس کی طرف مائل ہو تو وہ پیشگوئیاں بھی ٹل جاتی ہیں۔پس جب نبی کی پیشگوئیاں مل سکتی ہیں جو براہ راست اللہ سے خبر پا کے پیشگوئی کرتا ہے تو عام معاملات میں جو مشکلات انسان کو پیدا ہوتی رہتی ہیں وہ تو صدقہ و خیرات سے اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق ضرور ٹالتا ہے۔دعاؤں اور صدقات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔جب اللہ تعالیٰ کا بندہ خالص ہو کر اس کے سامنے جھکتا ہے اور اس سے بخشش اور معافی طلب کرتا ہے تو وہ بھی اس پر رحم اور فضل کی نظر ڈالتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ اگر کوئی شخص تو به ، استغفار یا دعا کرے یا صدقہ خیرات دے تو بلا رد کی جائے گی۔جب دعاؤں کے ساتھ صدقہ و خیرات کی طرف توجہ دیں یا صدقہ و خیرات کے ساتھ